تربت سے 2کمسن طالب علم فورسز کے ہاتھوں جبراً لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ میں کل رات گیارہ بجے کے قریب پاکستان فورسز نے چھاپہ مارکر دوکمسن طالب علموں کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کردیا۔

تفصیلات کے مطابق تربت کے علاقے ڈنک میں گذشتہ رات گیارہ بجے پیراملٹری فورس نے موسیٰ نامی شخص کے گھر پھر چھاپہ مارکر دو کمسن طالب علموں کو اغوا کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

لاپتہ طالب علموں کی شناخت بالاچ اور براھمدگ ولد موسیٰ کے ناموں سے ہوئی ہیں، ان میں سے براھمدگ جماعت نہم اور بالاچ جماعت چہارم کلاس کا طالب ہیں۔

گرفتار ہونے والے دونوں گذشتہ برس کیچ میں ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں قتل ہونے والے ملک ناز کے کزن بتائے جاتے ہیں۔

مذکورہ طالب علموں کی فورسز ہاتھوں جبری گمشدگی کی تصدیق کرتے ہوئے بی ایس اوبت زون کے ترجمان کا کہنا تھا کہ تربت کے علاقے ڈنک میں تین کمسن بچے اور گوکدان میں دو لڑکوں کو گزشتہ رات گھر میں گھس کر جبری طور پر لاپتہ کرنا ایک شرمناک واقعہ ہے۔

بی ایس او تربت زون کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ تربت کے علاقے ڈنک اور گوکدان میں گزشتہ رات گھر میں گھس کر جبری طور پر اسکول کے 5 طلبا کو لاپتہ کرنا قابل مذمت ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچ کم سنوں سے خوف سمجھ سے بالاتر ہے۔ جبری گمشدگیوں سے مزید نفرتیں بڑھیں گی اور دوریاں پیدا ہوں گی۔ ہم حکومت وقت اور ریاستی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ ان بچوں کو فوری طور پر بازیاب کریں اور لواحقین کی داد رسی کریں، بصورت دیگر ہم بھرپور احتجاج کریں گے۔

Share This Article
Leave a Comment