حملہ آور نے مجھ پر ایسے گولی چلائی کہ میں بچ نہ سکوں، زہرہ بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

شہید طالب علم رہنما رضا جہانگیرکے بیوہ زہرہ بلوچ جوگذشتہ روز کوئٹہ میں گولی لگنے سے زخمی ہوگئیں تھیں کا برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہناتھاکہ ’مجھے جب گولی ماری گئی تو اندازاً دس منٹ تک کوئی بھی میرے پاس نہیں آیا۔ گولی لگنے کے باعث میری حالت ابتر ہو رہی تھی لیکن میں ہوش میں تھی اور میرے کان میں ایسی آوازیں پڑ رہی تھیں کہ اس کے قریب مت جاؤ۔‘

زہرہ بلوچ بلوچستان کے علاقے آواران سے تعلق رکھتی ہیں اور کوئٹہ میں یونیورسٹی آف بلوچستان کے قریب گذشتہ بدھ کو ایک حملے میں زخمی ہوئی تھیں۔

انہوں نے فون پر بی بی سی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’حملہ آور نے مجھ پر ایسے گولی چلائی کہ میں بچ نہ سکوں لیکن اللہ نے شاید مجھے میرے بچوں کے لیے زندہ رکھا کیونکہ شوہر کے قتل کے بعد میں ہی بچوں کا سہارا ہوں۔‘

خیال رہے کہ نو سال قبل زہرہ کے شوہر رضا جہانگیر کو بلوچستان کے ضلع کیچ میں پاکستانی فوج نے بی این ایم کے رہنما امداد بجیر کے ساتھ گھر پرایک حملے میں شہید کیاتھا۔

زہرہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ انھیں ’ٹارگٹ کرنے والے ریاستی ادارے ہیں، اس سے قبل میرے شوہر کو ان کے سیاسی نظریات کی وجہ سے ہلاک کیا گیا۔ ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں۔‘

زہرہ جہانگیر کو زخمی ہونے کے بعد پولیس اہلکاروں نے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا تھا جہاں اب ان کی حالت بہتر ہے۔

انھوں نے خود پر ہونے والے حملے کی روداد سناتے ہوئے کہا کہ ’یونیورسٹی آف بلوچستان سے نکلنے کے بعد جب وہ جنگل باغ کے گیٹ پر پہنچیں تو وہاں ان پر حملہ کیا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے حملہ آور کو دیکھا۔ انھوں نے مجھ پر سامنے سے گولی چلائی۔ حملہ آور نے اپنا چہرہ نہیں چھپایا تھا اور وہ نوجوان تھا۔‘

زہرہ نے بتایا کہ ’میں یہ نہیں بتا سکتی کہ حملہ آور کتنے تھے لیکن انھوں نے صرف ایک نوجوان کو دیکھا۔‘

’مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ حملہ آور نے کتنی گولیاں چلائی لیکن ایک گولی میری گال پر لگی اور بعد میں ہسپتال میں پتا چلا کہ گولی پھنسی نہیں بلکہ کان کے پیچھے سے نکل گئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’گولی لگنے کے بعد میں گر گئی اور یہ سمجھتی رہی کہ بس یہ زندگی کا آخری لمحہ ہے لیکن میری زندگی باقی تھی اس لیے بچ گئی۔‘

’میرے دو بیٹے ہیں جن میں سے ایک ساتویں جماعت میں پڑھ رہا ہے اور ایک تیسری جماعت میں ہے۔ ان کا بڑا سہارا اس وقت میں ہوں اور شاید اللہ نے ان کے لیے مجھے زندہ رکھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں خود بھی حیران ہوں کہ گولی لگنے کے باوجود میں بے ہوش نہیں ہوئی۔ میں اندازاً دس منٹ وہاں پڑی رہی۔‘

’میری توقع کے برعکس وہاں پر موجود لوگوں میں سے کوئی میرے قریب نہیں آیا بلکہ کانوں پر ایسی آوازیں پڑتی رہیں کہ یہ پولیس کیس ہے اس کے قریب مت جا?۔‘

زہرہ کا کہنا تھا کہ ’فوری طور پر مدد کے لیے کسی کے قریب نہ آنے سے میری تشویش اور خوف میں مزید اضافہ ہوا تاہم اندازاً دس منٹ بعد پولیس اہلکار آئے اور انھوں نے مجھے ہسپتال پہنچایا۔‘

زہرہ کا کہنا تھا کہ سنہ 2013 میں شوہر کے قتل کے بعد تین بیٹوں کی پرورش اور تعلیم کی ذمہ داری ان پر تھی۔

ان کا کہناتھا کہ سنہ ’2015 میں کراچی میں انھیں جان سے مارنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ اس حملے میں بچ گئیں مگر ان کا بیٹا ہلاک ہوا۔‘

‘میرا بیٹا بیمار ہوا تھا اور میں اسے اپنے کزن کے ساتھ ہسپتال لے جا رہی تھی کہ قائد آباد کے علاقے میں ایک بس نے ہمیں کچلنے کی کوشش کی۔

’بس کو اپنی جانب آتا دیکھ کر میں اور کزن اپنے آپ کو بچا سکے لیکن کوشش کے باوجود ہم بیٹے کو نہیں بچا سکے اور وہ بس کی ٹکر سے ہلاک ہوا۔‘

اسے ایک سازش قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک حادثہ نہیں تھا کیونکہ بس سڑک سے بالکل باہر نکل کر ہماری جانب آئی۔ اس وقت بھی میری زندگی باقی تھی تو میں بچ گئی لیکن میں نے معصوم بیٹے کو کھو دیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ چند سال قبل وہ اپنے دو بیٹوں کو لے کر کوئٹہ منتقل ہوئیں تاکہ وہ انھیں اچھی تعلیم دلوا سکیں لیکن یہاں بھی ان کا پیچھا کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچی لٹریچر میں ایم اے کرنے کے بعد اب اس میں ایم فل کرنا چاہتی ہوں اور اس سلسلے میں داخلے کے لیے یونیورسٹی گئی تھی اور فارم جمع کرنے کے بعد جب یونیورسٹی سے واپس نکل رہی تھی تو مجھ پر حملہ کیا گیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’وہ ان حملوں سے ڈرنے والی نہیں بلکہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کے مشن پوری کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ان کے شوہر رضا جہانگیر ایک طالب علم رہنما تھے اور وہ بھرپور انداز سے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے تھے لیکن جہاں تک میری بات ہے تو میرا کسی بھی تنظیم سے تعلق نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’مجھے بالکل سمجھ نہیں آ رہی کہ مجھ پر کیوں حملہ کیا گیا۔ شاید مجھے اس وجہ سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے کہ میں ایک ایسے شخص کے بچوں کی ماں ہوں جو ایک نظریہ رکھتے تھے۔‘

Share This Article
Leave a Comment