لسبیلہ کے رسائی ممکن ہونیوالے بیشتر علاقوں میں امداد پہنچادی گئی،بلوچ یکجہتی کمیٹی

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (کراچی) کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ پچھلے جمعے کو بی وائی سی (کراچی) کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہم کراچی کے مختلف علاقوں میں بلوچستان کے سیلاب زدگان کے لئے امدادی کیمپ لگائیں گے اور ٹیمز بنا کر بلوچستان کے علاقے لسبیلہ جہاں سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے وہاں تک پہنچائیں گے۔ ہفتے کے روز کراچی کے علاقوں کاٹھور سمیت ملیر 15، رضا موبائل، شرافی، شفی گوٹھ، درسانہ چنہ میں کیمپ لگے اور یہ سلسلہ چل پڑا۔ اتوار کے دن بھی کراچی کے 17 علاقوں میں کیمپ لگے، پیر 16 علاقوں میں اور پیر کو کراچی سے بی وائی سی (کراچی) کی پہلی کھیپ لسبیلہ کی جانب روانہ ہوئی۔ پہلی کھیپ میں لگ بھگ 500 کے قریب خاندانوں کے لئے راشن اور مختلف قسم کے ادویات اور بچوں کے لئے کھانے پینے کا سامان بھی تھا۔

کیمپ کا سلسلہ روکے بغیر بلوچ یکجہتی کمیٹی (کراچی) نے بدھ کی رات مزید 3 ٹرک لسبیلہ کی جانب روانہ کئے اور وہ ٹرک بی وائی سی (کراچی) ٹیم باون شاہ، ٹیم شرافی اور ٹیم غازی ٹاؤن کے تھے۔ جن میں 20 لڑکے والنٹیر کرنے چل پڑے۔ پہلی کھیپ اور دوسری کھیپ بلوچستان کے علاقے لسبیلہ ڈسٹرکٹ میں بیلہ، لاکھڑا، جھاؤ کراس، گدڑی، چانکارہ، چک چانکارہ، حاجی صلاح چپ، وقیل چب، احمد گوٹھ، شلی بٹ، سردار گوٹھ مالکانہ، مچھوانی گوٹھ، اچھوانی گوٹھ، چاکرا گوٹھ اور گرد و نواح کے علاقوں کا دورہ کیا، شیلٹر کیمپ سمیت راشن اور دیگر ضرورت کا سامان میسر کیا۔

جو ٹیمیں لسبیلہ میں راشن تقسیم کرنے گئے تھے وہاں انہوں نے کچھ بیماریوں کا شبہ کیا اور مرکز سے اپیل کی کہ جلد از جلد ڈاکٹروں کا انتظام کیا جائے۔ لیکن جیسا کہ بی وائی سی (کراچی) نہ کوئی پارٹی ہے اور نہ کوئی اتنا بڑا ادارہ جو اتنے بڑے پیمانے پہ کام کرسکے اور ڈاکٹروں کا انتظام کر سکے تو ہم نے قوم سے اپیل کے کہ والنٹیر ڈاکٹر ہمارے ساتھ آئیں۔ جیسا کہ ڈاکٹر زیاد پہلے سے وہاں موجود تھے تو انہوں بے اپنا کام شروع کردیا تو وہیں ڈاکٹر ماہ جبین نے ہم سے رابطہ کیا کہ وہ والنٹیر کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ہمارے پاس عطیے کی خاصی ادویات تھیں تو ہم نے ڈاکٹر ماہ جبین اور ان کی ٹیم سے عمران اور شاہ نواز سمیت بی وائی سی (کراچی) کے دوستوں کے ہمراہ گدڑی روانہ کیا۔ صبح فجر سے ڈاکٹر ماہ جبین اور ان کی ٹیم نے اپنا کام شروع کیا اور رات دیر تک وہ نہیں رُکے۔ بی وائی سی (کراچی) ٹیم کے مطابق 6000 کے قریب ہمارے ساتھیوں نے لوگوں کی فرسٹ ایڈ کی اور دوائیاں دیں۔

ہماری دوسری کھیپ بھی اختتام کو پہنچی اور مرکز نے ساتھیوں کا کال دی کہ بارشیں بھی آنے والی ہیں تو کوئی اپنی زندگی رسک نہ کرے اور واپس آجائے تاکہ ہم آگے اور کام کر سکیں۔ جو اعتبار کراچی کی عوام پوری بلوچ قوم نے ہم پر دکھایا ہے اور جو امید ہم سے باندھی ہے ہم اس کو کبھی نہیں توڑیں گے اور کچھ دنوں میں ایک نئے حکمت عملی کے ساتھ سامنے آئیں گے۔ ہم نہ تھکے ہیں اور رُکے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment