کوئٹہ میں گذشتہ روز شہید طالب علم رہنمارضا جہانگیر کی بیوہ پر قاتلانہ حملہ کیخلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام گورنر اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے ریڈزون میں بلوچ لاپتہ افراد کے جاری دھرنے کے مقام پر ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا اور ریلی بھی نکالی گئی۔
احتجاجی ریلی اور پریس کانفرنس میں ماما قدیر سمیت لاپتہ افراد و سرگرم سیاسی و طلباتنظیمیں کے نمائندے و خواتین بچے بھی شریک تھے۔
پریس کانفرنس خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے آگ اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے جس کے شر سے اب تک شاید کی کوئی گھر محفوظ رہا ہو۔ بلوچستان میں ڈھونڈنے سے ہی شاید آپ کو ایسا کوئی گھر نہ ملیں جہاں اب تک کسی کو لاپتہ، قتل یا اجتماعی سزا کا نشانہ نہ بنایا گیا ہو۔ دو دہائیوں سے جاری اس کشت و خون میں کمی لانے اور اس آگ کو بجھانے کے بجائے ریاستی اداروں کی جانب سے مختلف واقعات کے ذریعے ان حالات کو مزید ایندھن فراہم کیا جا رہا ہے۔ اگر بلوچستان میں جاری قتل و غارت گری، جبری گمشدگی اور اجتماعی سزا کے اس عمل کو روکا نہیں گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ ریاست کی زمہ داری ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی مسئلے کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کی کوشش، کریں مگر بلوچستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے حالات مختلف منظر پیش کر رہے ہیں، سیلاب سے آج بلوچستان زخمی ہے زیارت واقعے پر اب تک متاثرین انصاف کے منتظر ہیں مگر ان کو حل کرنے کے بجائے گزشتہ دنوں زہرہ بلوچ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا جس میں وہ خوش نصیبی سے محفوظ تو رہے مگر حملے سے یہ واضح ہوا کہ اجتماعی سزا کے تحت متاثرہ خاندانوں نشانہ بنانے کا عمل جاری ہے جو انتہائی تشویشناک اور لمحہ فکریہ ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ بلوچستان میں اجتماعی سزا کے طور پر اب تک متعدد خاندانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے گزشتہ روز زہرہ بلوچ پر قاتلانہ حملہ اسی سلسلے کا تسلسل ہے۔ زہرہ بلوچ کی خاندان گزشتہ کئی سالوں سے اجتماعی سزا کا سامنا کررہی ہے جس میں ان کے خاندان کو شدید جانی و مالی نقصانات کا سامنا رہا ہے اور یہ عمل اب تک ان کے خلاف جاری ہے۔ اجتماعی سزا ایک جنگی جرم ہے اور ایسے گھناونے عمل کو فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے۔ مگر نام نہاد سیکورٹی کے نام پر بلوچستان میں سیکورٹی فورسز اور مسلح جتھوں کو بے پناہ طاقت اور اختیار مہیا کیا گیا ہے جو بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے ساتھ یہاں کے سیاسی و سماجی روایات کو بھی پاؤں تلے روند رہے ہیں۔ زہرہ پر قاتلانہ حملہ اجتماعی سزا کے نئے تسلسل کا آغاز ہوسکتا ہے مگر تمام اداروں پر یہ واضح ہو کہ ایسے بزدلانہ اقدام سے وہ مذموم مقاصد حاصل نہیں کرسکتے ہیں بلکہ ایسے گھناؤنے عمل کے خلاف لوگ مزید شدت کے ساتھ ابھریں گے۔
انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں کو شاید اس بات کا علم نہیں کہ بلوچ سماج خواتین کے معاملے میں انتہائی حساس ہے۔خواتین پر ایسے قاتلانہ حملے کو بلوچ سماج اپنے وجود پر حملہ تصور کرتا ہے۔ بلوچ خواتین پر حملے جیسے بزدلانہ اور انسانیت سوز اقدامات سے بلوچستان میں جاری آگ کو مزید ایدھن فراہم ہوگا اور اس کے نتائج ہمیشہ کی طرف یقینا انتہائی خطرناک ہونگے۔ شہید کریمہ بلوچ کی کینیڈا میں شہادت کے خلاف جس طرح کا ردعمل بلوچستان میں دیکھا گیا اس سے حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے۔
اس پریس کانفرنس کی توسط سے بلوچستان بھر کے سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں، وکلاء برادری، طلباء تنظیموں اور زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ آیا وہ آج بھی اس واقعے پر ہمیشہ کی طرح خاموش رہینگے یا مذمتی بیانات کے علاوہ عملی اقدامات بھی اٹھائیں گے۔ آج سیاسی طور پر متاثرہ افراد کے خاندانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اگر اس کے خلاف شدت سے مزاحمت نہیں کی گئی تو وہ وقت دور نہیں جب خواتین کو نشانہ بنانے کا عمل سیاسی طور پر متحرک خاندانوں سے نکل کر عام عوام تک پہنچ جائے گا۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی اس بات پر یقین رکھتی کہ اس ظلم و جبر کا مقابلہ عوامی مزاحمت سے کیا جا سکتا ہے۔ عوامی مزاحمت ہی ان تمام مظالم کا راستہ روک سکتا ہے۔