بی ایل اے نے تربت میں بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے پریس ریلیز میں کہا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے گذشتہ روز ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں قابض پاکستانی فوج کے افسران اور انکے مقامی آلہ کاروں کو موٹر سائیکل میں نصب ریموٹ کنٹرول بم حملے میں نشانہ بنایا۔

بی ایل اے کے سرمچاروں نے فٹبال اسٹیڈیم کے باہر میجر اور کیپٹن رینک کے دو افسران اور ان کے مقامی آلہ کاروں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ فٹبال میچ دیکھنے کی غرض سے وہاں پہنچے تھے، دھماکے کی زد میں آنے سے دشمن اہلکاروں کو جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ان کی گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

سرمچاروں نے منصوبہ بندی کے تحت عوامی نقصانات سے بچنے کیلئے مجمع سے فاصلے پر دشمن اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ جبکہ قابض فوج نے حسب معمول اپنے نقصانات کو چھپانے کی حتی الامکان کوشش کی۔

مذکورہ ٹورنامنٹ دشمن فوج کی سرپرستی میں دشمن کے نام نہاد جشن آزادی کی مناسبت سے منعقد کی جارہی ہے، جس کا افتتاح آئی جی ایف سی نے بی آر سی کالج میں کی تھی۔

بلوچ لبریشن آرمی قابض فوج و اس کے آلہ کاروں پر مزید شدت کے ساتھ حملے جاری رکھے گی لہٰذا عوام سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ قابض فوج کے زیر انتظام کسی بھی قسم کے تقریب میں شرکت کرنے سے گریز کریں۔ ایسے کسی تقریب میں شرکت قابض دشمن کی ہمنوائی کے مترادف ہے، لہٰذا ایسے تقریبات کے شرکاء اپنے جانی و مالی نقصان کا ذمہ دار خود ہونگے۔

Share This Article
Leave a Comment