بلوچستان میں بارش و سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، لسبیلہ سے 7لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔سرکاری اعدادو شمار کے مطابق اموات کی کل تعداد134 تک پہنچ گئی ہے۔
لسبیلہ میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے سیکڑوں مکانات تباہ ہو چکے ہیں، چوبیس گھنٹے کے دوران مزید 7 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں ہیں۔
اوتھل کھانٹا ندی اور لنڈا ندی سے قومی شاہراہ کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔
بلوچستان کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے)کے مطابق یکم جون سے اب تک بلوچستان میں موسلادھار بارشوں میں 134 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ 29 جولائی کی صبح موصول اطلاعات کے مطابق لسبیلہ میں 7، کوئٹہ میں 5، اور ژوب میں 2، کان مہتزئی میں 3 اور چاغی میں ایک شخص جاں بحق ہوا ہے۔
اس دوران مختلف حادثات میں ہزار سے زائد افراد زخمی، 11 ہزار سے زائد گھر تباہ اور 23 ہزار سے زائد مویشی بھی ہلاک ہوئے۔
نوشکی میں سیلابی پانی نے متعدد گھروں کو لپیٹ میں لے لیا۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سیلاب اور بارشوں کے باعث ہونے والے جانی اور مالی نقصان میں اضافے کا خدشہ ہے۔
ڈپٹی کمشنر حب کے مطابق 29 جولائی کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حب میں بارش اور سیلاب کے باعث 12 افراد ہلاک ہوئے۔
یہ اعداد و شمار پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری تعداد سے الگ ہے۔
کوئٹہ کے علاقے ہنہ اوڑک میں کچ ڈیم ٹوٹنے سے متعدد علاقے زیرآب اور سیلابی پانی سے متعدد گھر اور کچے مکانات گرگئے، جب کہ درجنوں مویشی بھی پانی میں بہہ گئے۔
قبل ازیں کوئٹہ کے ہنہ اوڑک میں دریاں اور نہروں میں طغیانی کے بعد 40 افراد کو بچایا گیا تھا، تاہم کان مہترزئی کے علاقے میں 3 افراد ڈوب کر ہلاک اور متعدد مکانات بہہ گئے تھے۔
انتظامیہ کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 30 سالوں سے 500 فیصد زائد بارشیں ہوئی ہیں۔