شہزاد بلوچ کی ایڈیٹ فوٹوز اور قبر پر کسی تنظیم کے پرچم رکھنا ریاستی پروپیگنڈہ ہے ،اہلخانہ

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

بلوچستان کے علاقے زیارت میں پاکستانی فوج کی جعلی مقابلے میں مارے جانے والے 9افرادمیں سے شہزاد بلوچ کے اہلخانہ جو کوئٹہ میں دیگر لاپتہ افراد کے ساتھ وزیر اعلیٰ اور گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں نے وہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلو چستان کے مشیر داخلہ ضیا لانگو کی اس بات کو مسترد کردیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ شہزاد بلوچ کاتعلق بی ایل اے سے تھا اور اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ اس کے قبر پر بی ایل اے کا پرچم لگایاہوا ہے۔

شہزاد بلوچ کے لوا حقین کے پریس کانفرنس کے موقع پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئر مین و وائس چیئر مین نصر اللہ بلوچ اور ماما قدیر بھی موجود تھے۔

شہزاد بلوچ کے لوا حقین کے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم میر ضیاء لانگو صاحب کے پریس کانفرنس کی اور ریاستی پشت پناہی میں سوشل میڈیا میں ایڈیٹ فوٹوز اور قبر پر کسی بھی تنظیم کا جھنڈا رکھنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جو کہ پروپیگنڈا کرنے والوں کی طرف سے کیا گیا ہے تا کہ ایک معصوم شہید کو کسی تنظیم سے منسلک کر کے پروپیگنڈہ کیا جاسکے جسکی ہم مزمت کرتے ہیں اور اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے فیملی کو مزید تکلیف نہ پہنچائی جائے، ہمارے خلاف سازشیں بند کی جائے، ہمیں انصاف دیا جائے اور ہمارے فیملی کو ان پر پروپیگینڈوں کے ذریعے مزید نشانہ بنانے سے تحفظ دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ میں آپ تمام پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا سے شہزاد کا بھائی اور فیملی کی جانب سے استدعا کر تاہوں کہ ہماری درد مندانہ اپیل اور گزارش اور یہ وضاحتی پریس کانفرنس کو بھر پور کوریج دیں تا کہ ہماری وضاحتی بیان چیف آف آرمی جناب قمر جاوید باجواہ صاحب چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان، چیئر مین سینیٹ جناب صادق سنجرانی صاحب وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف صاحب، کور کمانڈر بلوچستان, چیف منسٹر بلوچستان جناب قدوس بزنجو صاحب اور تمام انسانی ہمدردی رکھنے والے تنظیموں تک پہنچ جائے۔

ہم میر ضیاء لانگو صاحب کے پریس کانفرنس کی اور ریاستی پشت پناہی میں سوشل میڈیا میں ایڈیٹ فوٹوز اور قبر پر کسی بھی تنظیم کا جھنڈا رکھنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جو کہ پروپیگنڈا کرنے والوں کی طرف سے کیا گیا ہے تا کہ ایک معصوم شہید کو کسی تنظیم سے منسلک کر کے پروپیگنڈہ کیا جاسکے جسکی ہم مزمت کرتے ہیں اور اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے فیملی کو مزید تکلیف نہ پہنچائی جائے، ہمارے خلاف سازشیں بند کی جائے، ہمیں انصاف دیا جائے اور ہمارے فیملی کو ان پر پروپیگینڈوں کے ذریعے مزید نشانہ بنانے سے تحفظ دیا جائے۔

شہزاد بلوچ کے شہید ہونے سے پہلے ہم نے 27 جون کو کوئٹہ کلب میں پریس کانفرنس میں احتجاج ریکارڈ کرائی اور 30 جون کو مظاہرہ بھی ریکارڈ کرایا تھا۔ شہزاد بلوچ ایک معصوم اور ذمہ دار شہری تھا جس نے مختلف محکموں میں ٹیسٹ و انٹرویوز روزگار کیلئے دیئے تھے۔

شہزاد بلوچ 4 جون کو اپنے ساتھیوں سمیت موسیٰ کالونی کے ایریا سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ اور ہم نے مختلف تھانوں میں رپورٹ درج کروانے گئے تو انہوں نے ایف آئی آر درج نہیں کیا اور انکار کیا تو ہم نے 16 جون کو سول ڈیفنس میں اس کی ابتدائی رپورٹ درج کروائی، اس سلسلے میں شہزاد بلوچ کی بازیابی کے لیے ہم نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا۔ ہم مختلف ایم پی ایز کے پاس گئے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو صاحب کے پاس بھی گئے تھے اس طرح سابقہ وزیر خزانہ میر خالد لانگو صاحب کے پاس بھی فریاد کی۔ نہ صرف آرمی آفیسرز کے پاس گئے بلکہ جہاں کوئی امید نظر آتی تھی ہم وہاں پہنچ جاتے۔ اس کی لوکیشن ٹریس کیے تو وہ کو ئٹہ کینٹ بنارہا اندار یاستی اداروں نے ہمیں تسلی دیا کہ شہزاد بلوچ کو جلد رہا کر ینگے اور ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ بہت جلد شہزاد ہمارے پاس ہو گا اسی دوران عید سے دو دن پہلے شہزاد بلوچ کا ایک دوست جو شہزاد کے ساتھ لا پتہ ہوا تھا وہ بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ گیا ہماری خوشی اور زیادہ بڑھ گئی کیونکہ ہم یہی سوچ رہے تھے کہ بہت جلد شہزاد بھی ہمارے پاس ہو گا۔ حتی کہ ہمیں حکومتی ایوانوں سے یہاں تک کہا گیا کہ اس کیلیے عید کے لئے کپڑے اور جوتے لے لو وہ جائیگا عید میں۔ لیکن شاید خوشی ہمارے نصیب میں لکھی ہوئی نہیں تھی اسی دوران زیارت کا واقعہ پیش آیا جس میں کرنل لئیق کو قتل کیا گیا اور اسی اثنا میں پاکستانی سکیورٹی کی تحویل شدہ بھائی کو کینٹ سے اٹھا معصوم قیدی کو مار کر دہشت گرد ظاہر کیا گیا، دیگر ۹ قیدیوں سمیت مار کر پھینک دیا جو کہ نہ صرف ایک جرم ہے بلکہ انسانی حقوق کی انتہائی سنگین خلاف ورزی ہے جہاں ایک لہذا ہم حکام بالا کے تمام اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ خدارا ہمیں انصاف دیں، ہمارے خلاف مزید پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف کاروائی کر یں اور ہمیں تحفظ دیں۔

Share This Article
Leave a Comment