سانحہ زیارت کیخلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی آج اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ کریگی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی اسلام آباد کے ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں ریاستی ظلم و بربریت عروج پر ہے۔ بلوچ گزشتہ دو دہائیوں سے تسلسل کیسا تھ ریاستی نسل کشی کا شکار ہیں۔ جبری گمشدگی ماورائے عدالت قتل عام، مسخ شد والا شیں اور جعلی مقابلوں میں بے گناہ لاپتہ افراد کا انتقام کے نام پر قتل عام نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں۔

حسب سابق گزشتہ دنوں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے زیارت واقعہ کے بعد پہلے سے جبری طور پر لاپتہ کئے گئے 9 افراد کو جعلی مقابلے میں شہید کیا جن میں سے اب تک ساتھ افراد کا شناخت ہو چکا ہے جن کے جبری طور پر گمشدگی کے عدالتی دستاویزات اور سی سی ٹی وی فوٹیج بطور ثبوت موجود ہیں۔ شناخت ہونے والوں میں شمس ساتکزئی، انجینئر ظہیر بلوچ، شہزاد دہوار، ڈاکٹر مختیار اور سالم بلوچ شامل ہیں۔

ایک جانب جبری طور پر گمشدگی ماورائے عدالت قتل عام، مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کا سلسلہ اور مظالم عروج پر ہے اور دوسری جانب متاثرین لواحقین کو احتجاج کرنے سے بھی روکا جار ہا ہے۔ گزشتہ دن 22 جولائی کو کوئٹہ میں معصوم بچوں و خواتین سمیت مظاہرین پر آنسو گیس اور شیلنگ کی گئی جو انتہائی افسوسناک عمل ہے۔

ترجمان نے بیان کے آخر میں کہا کہ بلوچستان میں ریاستی مظالم اور بلوچ نسل کشی کے خلاف 24 جولائی بروز اتوار شام 4:30 بجے پریس کلب اسلام آباد کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔ صحافی، وکلاء، سوشل ایکٹوسٹس، الغرض تمام مکاتب فکر کے لوگوں سے شرکت کی اپیل کی جاتی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment