بلوچ آزادی پسند رہنما اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے زیارت میں پاکستانی فوج کی جعلی مقابلے میں لاپتہ بلوچ فرزندوں کی شہادت اور کوئٹہ میں ان کی لواحقین کی پر امن احتجاجی مظاہرے پر فورسز کی شیلنگ و تشدد پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ”ٹوئٹر“ پربلوچی زبان میں اپنے ایک ٹویٹ میں ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ
“بلوچ قوم کے لاپتہ افراد کی لاشیں اُٹھانے کے بعد دُنیا کو باور کرنا ہوگا کہ بلوچ کی جنگ آزادی برحق ہے۔ اگر کوئی اس سے منکر ہے، خواہ وہ کوئی اسمبلی ممبر ہو یا دانشور، اپنے ضمیر کو جوابدہ ہوگا۔ ہزاروں سلام اُن ماؤں بہنوں کو جو جبر کے خلاف سینہ سُپر ہیں۔
واضع رہے کہ 12جولائی کو بلوچ آزادی پسند تنظیم ”بی ایل اے“کے ہاتھوں پاکستا نی فوج کے ایک کرنل و اسکے کزن کے اغوا و ہلاکت کے بعد فوج نے ایک جعلی مقابلے میں 9افراد کو قتل کرکے انہیں بطور جنگجو ظاہر کیا تھالیکن بعد ازاں ان کی شناخت لاپتہ افراد کے طور پر سامنے آئی ہے جس پر بلوچ حلقوں میں اس جعلی مقابلے پرپاکستانی فوج کو نہ صرف شدید تنقید کا سامنا ہے بلکہ اس کے خلاف کوئٹہ کے ریڈ زون میں لواحقین کا دھرنا جاری ہے۔