جبری لاپتہ افراد کو جعلی مقابلے میں قتل کرنا ظلم کی انتہا ہے،بلوچ یکجہتی کمیٹی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے زیارت میں لاپتہ افراد کو جعلی مقابلے میں مارنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انصاف جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی کی صرف بات کی جاتی ہے جبکہ اس کے برعکس بلوچستان میں ظلم و جبر کی حکومت ہے اور وہاں بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں، انہیں جعلی مقابلوں میں قتل کیا جارہا ہے۔ زیارت میں جن 9 افرادکو جعلی مقابلوں میں مارا گیا ہے وہ پہلے سے جبری طور پر لاپتہ کئے گئے تھے۔ لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں مارنا نا انصافی اور جبر کی انتہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ جن افراد کو سیکورٹی فورسز کی جانب سے 13 جولائی کو زیارت میں مقابلے میں مارنے کا دعوی کیا گیا ہے ان میں سے 5 افراد کی شناخت پہلے سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے شمس ساتکزئی، طالب علم شہزاد بلوچ،انجینئر ظہیر بلوچ،سالم اور مختیار بلوچ کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ باقیوں کی شناخت کا سلسلہ جاری ہے۔ لا پتہ کیے گئے ان افراد کے اہلخانہ نے ان کی جبری گمشدگی کے خلاف بلوچستان بھر میں احتجاج کیاہے، بجائے انہیں رہا کرنے کے انہیں جھوٹے انکاؤنٹر میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے خلاف حکومت، سیاسی جماعتیں اور عدلیہ کوحرکت میں آنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ سلسلہ خوفناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔

ترجمان نے بیان کے آخر میں عدلیہ، چیف جسٹس آف پاکستان اور انصاف کے تمام اداروں سے اپیل کی ہے کہ بلوچستان میں جعلی مقابلوں میں بے گناہ افرادکونشانہ بنانے کے اثرات سنگین ہونگے جس کے روک تھام کیلئے انہیں سخت ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔سیکورٹی فورسز کو بلوچستان کے تمام اختیارات دینا خطرناک ثابت ہوگا اور بلوچستان میں حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment