زیارت آپریشن کے جعلی مقابلے میں قتل کئے جانیوالے 5افرادکی شناخت ہوگئی

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے علاقے زیارت میں پاکستانی فوج کے دوران آپریشن جعلی مقابلے قتل کئے جانیوالے 9افراد میں سے 5کی شناخت ہوگئی ہے۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے سول اسپتال میں رکھے گئے لاشوں کی شناخت کا سلسلہ جاری ہے۔

گذشتہ دنوں ضلع زیارت میں فورسز نے نو افراد کو ایک مقابلے میں مارنے کا دعویٰ کرتے ہوئے انہیں بی ایل اے کا جنگجو قرار دیا تھا، تاہم بی ایل اے نے فورسز کے اس دعوے کو مسترد کردیا تھا۔ ابتک پانچ افراد کی شناخت پہلے سے فورسز کے زیر حراست لاپتہ افراد کے ناموں سے ہوئی ہے۔

شمس ساتکزئی
پہلیکی شناخت شمس ساتکزئی کے نام سے ہوئی ہے جنہیں پانچ سال قبل فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔

شہزاد دہوار
دوسرے کی شناخت شہزاد دہوارجے نام سے ہوئی ہے جنہیں رواں سال جون کے مہینے میں لاپتہ کیا گیا تھا۔

انجینئر ظہیر بنگلزئی
تیسرے کی شناخت انجینئر ظہیر بنگلزئی سکنہ کوئٹہ کے نام سے ہوگئی ہے جنہیں گذشتہ سال اکتوبر کے مہینے میں جبراًلاپتہ کیا گیا تھا۔
خاندانی ذرائع کے مطابق ظہیر بنگلزئی کی آخری رسومات کی تیاریاں چل رہی ہیں،انہیں گذشتہ سال اکتوبر کے مہینے میں ان کے دفتر“سمارٹ ویز کنسلٹنسی لمیٹڈ ائیرپورٹ روڈ کوئٹہ”کے قریب سے اغواء کیا گیا تھا۔

مختار بلوچ ولد عبدالحئی
چوتھے کی شناخت مختار بلوچ ولد عبدالحئی سکنہ خضدار کے نام سے ہوگئی ہے۔جنہیں کوئٹہ کے علاقے موسیٰ کالونی سے رواں برس چار جون کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔

سالم کریم
پانچویں کی شناخت سالم کریم بالگتر کیچ کے نام سے ہوگئی ہے۔ جس کے بارے میں ابھی تک پتہ نہیں چل سکا کہ اسے کب اور کہاں جبری گمشدگی کا شکار بنا یا گیا تھا۔

خیال رہے کہ اس طرح کے جعلی مقابلے بلوچستان میں پہلے بھی رپورٹ ہوچکے ہیں جہاں فورسز پہلے سے لاپتہ افراد کو مقابلے کا نام دے کر قتل کرچکے ہیں۔

واضع رہے کہ گذشتہ دنوں زیارت میں پاکستان آرمی کے ایک حاضر سروس کرنل لئیق بیگ مرزا اور اس کا کزن عمر جاوید مسلح افراد کے ہاتھوں اغواہوجاتے ہیں۔بعدازاں بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم ”بی ایل اے“ اس کارراوئی کی ذمہ داری قبو ل کرتی ہے اور دونوں کو ہلاک کرتاہے۔

بی ایل اے اپنے جاری کردہ بیان میں موقف اختیار کرتا ہے کہ کرنل لئیق معصوم بلوچوں کی جبری گمشدگی میں براہ راست ملوث تھا اسی لئے اسے موت کی سزا دی گئی ہے۔

اس واقعہ کے بعدزیارت اور گردو نواح میں فوجی آپریشن کاآغازکیا جاتا ہے۔جہاں بعد میں آئی ایس پی آر کی جانب سے 9 اغوا کاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

آئی ایس پی آر کے دعوے کے بعدبی ایل اے اسے مسترد کرتی ہے اور اپنے بیان میں کہتا ہے کہ مذکورہ کرنل کے اغوا کے مشن میں شامل تمام سرمچار باحفاظت اپنے ٹھکانوں پر پہنچ گئے ہیں۔

بی ایل اے اپنے بیان میں اس خدشے کا اظہار بھی کرتا ہے کہ فورسز ہاتھو ں مارے جانے والے افراد پہلے سے لاپتہ ہونے والے لوگ ہی ہونگے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی بلوچ مسلح تنظیموں کے کارروائی کے بدلے فورسز جعلی مقابلوں میں پہلے سے لاپتہ افراد کو قتل کرکے انہیں بطور سرمچار ظاہر کر چکی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment