چین نے پاکستانی فوج کی مدد سے گوادر میں ترقی کے بہانے نہ صرف جدید ٹیکنالوجی اور مشینری کو پاکستان منتقل کیا ہے بلکہ اسے بلوچستان کے ساحلی شہر اور سی پیک مرکز کہلانے والے ”گوادر“ میں بھی منتقل کیا ہے۔
کہا جارہاہے کہ چین نے پاکستان میں پہلی بار ریوٹمنٹ اور پلنگ جیسی جدید ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کا استعمال کیا اور اس ٹیکنالوجی کے ذریعے تقریباً 4 کلومیٹر کے علاقے کو سمندر سے دوبارہ حاصل کیا جاتا ہے۔
گوادر پرو کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) نوید احمد شامی تقریباً 6 یا 7 سال سے چینیوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ وہ گوادر میں 19 کلومیٹر طویل ایسٹ بے ایکسپریس وے منصوبے کے کوآرڈینیٹر ہیں۔
نوید شامی کو فخر ہے کہ چینیوں نے پاکستان میں پہلی بار ریوٹمنٹ اور پلنگ ٹیکنالوجی جیسی جدید ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کا استعمال کیا۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے تقریباً 4 کلومیٹر کے علاقے کو سمندر سے دوبارہ حاصل کیا جاتا ہے۔
گوادر پرو کے مطابق شامی نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے ابتدائی وقت تقریباً تین سال کا تھا لیکن انھیں ماہی گیروں کے لیے تین پل بنانے تھے۔ اب ماہی گیر آسانی سے سڑک عبور کر سکتے ہیں اور وہ اپنی کشتیاں اور سامان بھی ان پلوں سے لے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ منصوبہ مزید ایک سال کے لیے تاخیر کا شکار ہوا، لیکن اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی مقامی لوگوں کی سہولت کے لیے کس قدر فکر مند ہیں۔
ایسٹ بے ایکسپریس وے منصوبے کا بنیادی مقصد بندرگاہ سے سی پیک آرٹری تک بھاری بھرکم کارگوز کی نقل و حمل کو آسان بنانا ہے۔
گوادر پرو کے مطابق اگرچہ بعض عناصر نے اس منصوبے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی لیکن خوش قسمتی سے پاک فوج کی جانب سے دیے گئے انتہائی سخت سیکیورٹی گارڈز اور چوبیس گھنٹے سیکیورٹی کے باعث منصوبے کے دوران کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔
گوادر پرو کے مطابق چین نے گوادر کی ترقی کے لیے نہ صرف ٹیکنالوجی اور مشینری کو پاکستان منتقل کیا ہے بلکہ اسے پاکستان کے دور دراز علاقوں کے لوگوں تک بھی منتقل کیا ہے۔
واضع رہے کہ گوادر میں ترقی اورایسٹ بے ایکسپریس وے منصوبے کی آڑ میں مقامی ماہیگیروں کو شکار پر جانے کی پابندی ہے اور انہیں اپنی مرضی کے ٹائم پیریڈ سے شکار کیلئے اجازت دینے کے بعدانہیں مکمل واچ کیا جاتا ہے۔جس سے ایک تناؤ کاماحول ہے جس پر ماہیگیر سراپااحتجاج ہیں۔