بلوچستان میں بارش و سیلاب کی تباہ کاریا ں جاری ہیں۔ پشین، پنجگور اور حب میں مزید8بچے و 2خواتین کی ہلاکت کے بعدتعداد50سے زائد ہوگئی ہے۔
پشین میں حالیہ مون سون کی بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی ہے۔
گذشتہ شب برشور کے قریب تور مرغہ ڈیم ٹوٹنے سے پانی مذکورہ ڈیم کے متصل علاقوں ڈب خانزئی کراس، منزکی اور ملکیار میں داخل ہوگیا۔
پانی داخل ہونے سے زمینی رابطے منقطع ہوگئے رات گئے۔گھروں سے نکلنے کیلئے مساجد میں اعلانات ہوتے رہے۔
کلی ملکیار میں لوگ گھروں سے نکل کر کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہوئے جبکہ سینکڑوں خاندانوں نے پشین شہر اور کوئٹہ کا رُخ کیا ملکیار میں خواتین اور بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی جس کے باعث گاڑی میں سوار دڑائیور،دو خواتین اور تین بچوں میں سے تین افراد کی لاشیں نکال لی گئیں جبکہ مزید تین کی تلاش تاحال جاری ہے۔
اسی طرح ڈب کراس پر لیویز چوکی اور بی ایچ یو سیلابی ریلے کی نظر ہوگیا۔
کلی منزکی میں ضعیف العمر افراد سیلابی ریلے سے ممکہ خدشات کے باعث دکانوں پر چڑھ گئے۔
حالیہ بارشوں سے مذکورہ دیہاتوں میں باغات مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔
زمینداروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے عوام اور قبائلی عمائدین نے بلوچستان حکومت سے مذکورہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دینے اور اشیائے ضروریہ فراہم کرنیکا مطالبہ کیا ہے۔
اسی طرح پنجگور کے علاقے سوردو حاجی غازی میں بارش کے باعث گھر کے کچے چاردیوار گرنے سے ملبے تلے دب کر ایک ہی خاندان کے چار بچے ہلاک ہوگئے۔
خاندانی ذرائع کے مطابق بچے جن کی عمریں 7 سال سے دو سال کے قریب تھے وہ گھر کے چار دیواری کے سامنے کھیل رہے تھے کہ اچانک دیوار گر کر زمین بوس ہوگیا۔
دیوار گرنے سے ملبے تلے دب کر چار بچے،طلال جن کی عمر 5 سال،عدیدہ جن کی عمر 7سال، پسران مجاہد نعمان عمر 2 سال ارمان عمر 4 سال پسران شاہد موقع پر ہلاک ہوگئے۔
ہلاک بچوں کو ملبے تلے نکال کر گھر منتقل کیا گیا۔
واقعہ کے بعد گھر میں کہرام مچ گیا۔بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوکر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
واضع رہے کہ پنجگور میں گزشتہ تین دنوں کی وقفے وقفے سے طوفانی بارش نے پنجگور اور اسکے گردوانوح میں تباہی مچادی ہے۔ سینکڑوں گھر اور دیواریں مندم ہوچکی ہے تاہم اب تک حکومت کی طرف سے کوئی امدای سرگرمی نظر نہیں آرہی ہے۔
دریں اثنا موسلادھاربارش کے سبب حب کے علاقے بلوچ کالونی میں زیر تعمیر مکان کی چھت گرنے کے نتیجے میں 14سالہ بچہ ملبے میں دبنے کے سبب ہلاک ہو گیا۔
متوفی کی نعش جام غلام قادر گورنمنٹ اسپتال منتقل کردیاگیا۔
اس حوالے سے ایدھی ریسیکو ذرائع کے مطابق گزشتہ شب موسلادھار بارش کے سبب حب کے علاقے بلوچ کالونی میں زیر تعمیر مکانکی چھت منہدم ہونے کے سبب 14سالہ عبدالرسول ولد فیض محمد ملبے تلے دب کر دم توڑ گیا جس کی نعش حب اسپتال منتقل کرنے اور ضروری کاروائی کے بعد ورثاکے حوالے کردی گئی۔
سرکاری سطح پرجاری کردہ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں بارشوں سے اموات کی تعداد45 تک پہنچ گئی ہے لیکن تازہ صورتحال کے مطابق یہ تعداد 50سے زائد ہوگئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے بلوچستان میں بارشوں سے ہونے والے اب تک کے نقصانات سے متعلق جاری کردہ رپورٹ کے مطابق حالیہ بارشوں کے دوران بلوچستان بھر میں مختلف حادثات میں ہلاک ہونیوالوں کی تعداد 45 تک پہنچ گئی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں 18 خواتین،11مرد اور16بچے شامل ہیں۔پی ڈی ایم اے رپورٹ کے مطابق اموات بولان،کوئٹہ،ژوب،دکی،خضدار،کوہلو، کیچ،مستونگ،ہرنائی،قلعہ سیف اللہ اور سبی میں ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق بارشوں کے دوران حادثات کا شکار ہوکر 47 افراد زخمی ہوئے۔مجموعی طور پر صوبے بھر میں 241 مکانات منہدم ہوئے۔
بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں ہونے والی بارش اور سیلابی ریلوں کے باعث ہرنائی پنجاب قومی شاہراہ پر ٹریفک روانی متاثر ہوگئی۔
دوسری جانب بارش کے بعد سیلابی ریلوں کے سبب ہرنائی پنجاب جانے والی قومی شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کیلئے مکمل طور پر بند ہوگئی۔
ہرنائی وگردونواح میں بارش اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی، سیلابی ریلوں سے ہرنائی کوئٹہ شاہراہ کے دوبڑے رابطہ پلوں پلوسین ندی اور ناکس پل کو شدید نقصان پہنچایا ہے جبکہ ناکس اور گچینہ جانے والے بجلی کے کھمبے بھی سیلابی ریلے بہا کر لے گئے۔
سیلاب سے ہرنائی سٹی کیلئے بنائے گئے حفاظتی بندات بھی سیلاب ریلوں کی نظر ہوگئے، کلی مرزا، کلی لعل حان حفاظتی بند جوکہ عرضی طور پر تعمیر کیاگیا سیلاب میں بہہ گیا۔چھوٹے حفاظتی بندات کی ٹوٹنے سے سیلابی پانی کلی لعل حان، کلی مرزا، اندڑآباد اور ہرنائی شہر میں داخل ہوگئے جبکہ سیلابی پانی کے گھروں اور دکانوں میں داخل ہونے سے کچے مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔