جماعت اسلامی بلوچستان کے سیکرٹری جنرل اور حق دو تحریک بلوچستان کے قائد مولانا ہدایت الرحمان کی گوادر میں منعقدہ ایک جلسے کی ویڈیووائرل ہے جس میں وہ ایک بلوچ قوم پرست رہنماکو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے کہ اس نے اپنی بیٹی کی شادی پنجابی خاندان سے کرائی ہے۔
مولانا ہدایت الرحمان کے اس ویڈیو کے ردعمل پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اخترمینگل کی صاحبزادی بانڑی مینگل کی بلوچ قم کے نام ایک کھلاخط سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں وہ اس بات پر تعجب کا شکار نہیں کہ ایک سیاسی فائدے کیلئے ان کی عزت اچھالی جارہی ہے بلکہ اس نے ا س بات پرافسوس کا اظہار کیا ہے کہ مولانا کی بات پرجلسے میں بیٹھے بلوچ بھائیوں نے اس کی باتوں پر تالیاں بجائیں اور واہ واہ کی۔
اختر مینگل کی صاحبزادی بانڑی مینگل کی بلوچ قوم کے نام کھلا خط سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس کی ردعمل پر بلوچ حلقوں میں مولانا ہدایت الرحمان کی اس حرکت پرانہیں شدیدتنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور اسے بلوچ ننگ و ناموس پر ایک حملہ قرار دیا جارہا ہے۔
واضع رہے کہ مولانا ہدایت الرحمان نے اس سے قبل بھی اپنے ایک انٹرویو میں بلوچستان یونیورسٹی اور پنجاب یونیورسٹیوں میں بلوچ طلبا طالبات پر تشدد کو جائز قراردیا تھا اورانہیں فعاشی پھیلانے کا موردالزام ٹھہرایا تھا۔
سردار اختر مینگل کی صاحبزادی بانڑی مینگل بلوچ قوم کے نام سے جاری کردہ اپنے کھلے خط میں رقم طراز ہیں کہ مجھے آج انتہائی دل برداشتگی کے ساتھ یہ سب لکھنا پڑ رہا ہے۔ پچھلے چار سال سے میں بھرپور کوشش کرتی رہی کہ مجھے مناسب الفاظ ملیں تاکہ میں اپنا پیغام آپ سب تک پہنچا سکوں، لیکن کسی نہ کسی طرح مجھے لکھنے یا بولنے کا حوصلہ یا ہمت نہیں مل سکی۔
میری شادی کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں اور نہ ہی نام نہاد بلوچ ایکٹوسٹس کو اپنے سیاسی فائدے کیلئے استعمال کرنا چاہیے۔ جس طرح میری شادی کو لے کر مجھے اور میرے خاندان کو نام نہاد ایکٹوسٹس نے ہراساں کیا، گالیاں دیں، یہاں تک کہ میرے سسرال کو بھی نہیں بخشا، میں نے ان کو سب کو چھوڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی اور میرے والد بہت بہادری کیساتھ میرے ساتھ کھڑے رہے۔
کبھی کبھار تو پاکستان کی روایتی سیاست کو برقرار رکھتے ہوئے میرے والد کے سیاسی مخالفین نے یہ سوچا کہ اس کی بیٹی کی شادی کو لیکر اس پر الزامات لگائے جائیں جس سے ان کو تکلیف اور نقصان پہنچے گا، کیونکہ ان کے مخالفین کے پاس اور ایسا کچھ نہیں تھا جو وہ میرے والد کیخلاف استعمال کرسکتے۔ میرے خلاف اس کمپین میں غیر ت تو دور کی بات میرے کچھ نام نہاد رشتے دار بھی شامل رہے۔
آج میری نظر سے ایک ویڈیو گزری جہاں ایک بلوچ ایکٹوسٹ خود کو بلوچ ننگ و ناموس کے محافظ کہنے والے میرے والد پر انگلی اٹھا رہے تھے اور ان پر تنقید کررہے تھے، اس پر مجھے کوئی تعجب نہیں ہوا کیونکہ یہ ان سب کا سیاسی حق ہے، لیکن وہاں مجھے اور میری شادی کو کیوں نشانہ بنایا گیا، مجھے حیرانگی تب نہیں ہوئی جب اس نے بھری محفل میں مجھے اور میری شادی کو اپنے سیاسی فائدے کیلئے نشانہ بنایا لیکن مجھے حیرت تب ہوئی جب وہاں ہجوم میں بیٹھے میرے بلوچ بھائیوں نے اس کی باتوں پر تالیاں بجائیں اور واہ واہ کی؟
بانڑی بلوچ لکھتی ہیں کہ بلوچ خواتین کو آپ اپنی غیرت سمجھتے ہیں، لیکن جب آپ مائیک اٹھا کر اپنے سیاسی مخالفین کی خواتین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تو کیا اس ذہنیت کے لوگوں سے بلوچ خواتین کیا توقع کرسکتی ہیں۔ ایسا کرنے سے آپ صرف اپنے آپ کو ایکسپوز کرسکتے ہیں۔
یہ پہلی بار نہیں جب میرے والد کو میری شادی کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا، بلکہ پچھلے چار سال سے میرے والد کے تمام سیاسی مخالفین نے یہ زہر اگلا اور ان کو لگاتار ذاتیات کا نشانہ بنایا گیا۔ میرے ذہن میں اس وقت کافی سوالات چل رہے ہیں، جہاں تک مجھے پتہ ہے کہ کافی نیشنلسٹ فیملیز نے اپنے بیٹوں کی شادی پنجابی خاندانوں میں کروائی ہیں، لیکن آج تک ان کو کسی نے ایک لفظ نہیں کہا، میں بھی اس کیخلاف نہیں ہوں، لیکن صرف خواتین ہونے کے ناطے مجھے کیوں اتنا ذاتی تنقید کا نشانہ بنایا گیا، کیا میں بلوچ نہیں ہوں؟
بانڑی مینگل نے لکھا کہ میں نے اپنی پوری زندگی بلوچ نیشنلزم پڑھی اور اس پر توجہ دی، اس کے بغیر کچھ نہیں کرنا چاہا، لیکن مجھے اس بات سے بہت تکلیف ہوئی، میرے ارادے پست ہونے لگے، سب سے اذیت ناک بات یہ ہے کہ مجھے ان کے سامنے ہراساں کیا گیا جن کے سامنے ہم اپنے حق و حقوق کی بات کرتے ہیں۔ مجھے ہر روز کہا گیا کہ آپ خاموش رہیں، جواب نہ دیں، نظر انداز کریں لیکن بس اب بہت ہوگیا، اپنے لیے میں آواز نہیں اٹھاؤں گی تو کون اٹھائے گا، اب میں خاموش نہیں رہوں گی۔
حق دو تحریک کی بنیاد رکھ کراور بلوچوں کی مسائل کیلئے انہیں اکھٹے کرکے مولاناہدایت الرحمان بہت جلد بلوچستان کی ایک توانا آواز بن گئے اور بلوچستان میں سیاسی جمود کو ختم کرنے کا سہرا بھی اس کے سر سجا۔ہزاروں لوگوں نے ان کی آوازپر لبیک کہا، انہیں نجات دہندہ مانااور گھروں سے باہر نکلے لیکن بلوچ طلبا پرالزام تراشی اور اب پنجابی خاندانوں میں بلوچ قوم پرستوں کی بیٹیوں کی شادی بیان پر وہ بلوچ حلقوں میں مکمل طور پر متنازع بن گئے۔