بی این اے کے ترجمان مرید بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے پریس ریلیز میں بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے بالگتر آسانک چڑھائی پر پاکستانی فورسز کی چوکیوں پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ بہ یک وقت دو چوکیوں پر کیا گیا جس سے فورسز کے پانچ اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے اور حملے میں فورسز کے ایک ڈرون کیمرے کو بھی مار گرایاہے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچ نیشنلسٹ آرمی کے سرمچاروں نے کل شام پانچ بجے ہوشاب اور بالگتر کے درمیان آسانک چڑھائی کے مقام پر نام نہاد سی پیک کی حفاظت پر معمور قابض فورسز کی دو چوکیوں پر بیک وقت راکٹوں اور جدید ہتھیاروں سے شدید حملہ کرکے قابض فورسز کے پانچ اہلکاروں کو ہلاک اورمتعدد کو زخمی کیا اور حکمت عملی کے تحت چوکیوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جبکہ ایک مورچے میں گھس کر وہاں لگے کیمرہ، سولر سسٹم اور باقی ساز و سامان کو نقصان پہنچایا۔
اسی اثنا قابض فورسز نے سہاکی بالگتر کے مرکزی کیمپ سے ڈرون کیمرے اُڑائے اور سرمچاروں کو پیچھے سے گھیرنے کی کوشش کی تو سرمچاروں نے ڈرون کیمروں پر حملہ کرکے ایک کو مار گرایا اورپھر ایک طویل اور خونی جھڑپ کا آغاز ہوگیا جبکہ قابض فورسز کی مدد کے لیے جنگی ہیلی کاپٹر بھی آگئے تھے۔ ہمارے سرمچاروں نے فورسز کی فضائی مدد کے لیے آئے ہیلی کاپٹروں پر راکٹ اور اسنائپر رائفلوں سے حملہ کرکے انہیں جزوی نقصان پہنچایا۔ ڈھائی گھنٹوں کی اس طویل جھڑپ میں فورسز کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا کر اور گھیرا توڑ کر سرمچار بہ حفاظت محفوظ ٹھکانوں کی جانب نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔
بلوچ نیشنلسٹ آرمی قابض ریاست پر یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ بلوچ ماؤں بہنوں کی سڑکوں پر تذلیل اور نوجوانوں خاص طور پر طالب علموں کی جبراً اغواہ نما گرفتاریوں پر ہم قطعاً خاموش نہیں رہیں گے اور سب کا حساب لیں گے۔
ہماری اسطرح کی کاروائیاں قابض کی بلوچستان سے مکمل انخلا اور آزاد بلوچستان کے حصول تک تیزی کی ساتھ جاری رہیں گی۔