کراچی: بلوچ لاپتہ افرادمظاہرین کا وزیراعلیٰ سندھ ہاؤس جانیکا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کے صوبہ سندھ کے مرکزی شہر کراچی میں کراچی یونیورسٹی کے دو بلوچ طلبا کی جبری گمشدگی کے خلاف احتجاجی مظاہرین اور سی ٹی ڈی حکام کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات سے سندھ پولیس کی مکر نے کے بعدمظاہرین کا وزیراعلیٰ سندھ ہاؤس جانیکا اعلان کیا ہے۔

دودا اور غمشاد کی بازیابی کے لئے مظاہرین نے وزیراعلیٰ سندھ ہاؤس کی جانب مارچ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

سینئر صحافی اور سلگتا بلوچستان کے مصنف عزیز سنگھور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ مارچ کو روکنے کے لئے بڑی تعداد میں پولیس نے کراچی پریس کلب کے سامنے پہنچ گئی اور سندھ پولیس مظاہرین کو روکنے کی کوشش کررہی ہے تاہم بلوچ خواتین اور بچے اپنے لاپتہ افراد کے لئے کمر بند ہوگئے۔

دوسری جانب لاپتہ دودا الٰہی اور غمشاد بلوچ کی بازیابی کیلئے کراچی پریس کلب پر لگائے گئے کیمپ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما امینہ بلوچ نے کہا کہ گزشتہ رات سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے کے بعد پولیس نے رات ہمیں جعلی خط دیا اور آج سندھ پولیس ہمیں سندھ اسمبلی کے سامنے اپنا پرامن احتجاج ریکارڈ کرانے کی اجازت نہیں دے رہی۔

امینہ بلوچ نے کہا کہ سندھ پولیس نے سی ٹی ڈی کے خط کے ذریعے ہمیں یقین دہانی کرائی کہ ہماری ملاقات ان سے طے پا گئی ہے۔ اب پولیس کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ اس بارے میں انہیں کوئی علم نہیں۔ ان کے مطابق سی ٹی ڈی اس خط کی تردید کر رہی ہے جو گزشتہ رات اس کے دفتر کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے متاثرین سے ملاقات کے بارے میں جاری کیا گیا تھا کہ وہ گمشدہ اور ڈوڈا کے اہل خانہ سے ملنے کو تیار نہیں ہیں۔

امینہ بلوچ سمیت دیگر رہنماؤں اور دودا الٰہی اورغمشاد بلوچ کے اہل خانہ نے کہا کہ ہم گزشتہ 4 روز سے کراچی پریس کلب کے سامنے کیمپ میں دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ کراچی پریس کلب کے سامنے بیٹھے چار دن ہو گئے ہیں لیکن غمشاد بلوچ اور دودا بلوچ کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا۔

انہوں نے کہا کہ دودا الٰہی اور گمشاد بلوچ کی بحفاظت رہائی کے لیے سوشل میڈیا مہم بھی چلائی جائے گی، بازیابی تک کراچی پریس کلب کے سامنے کیمپ میں ہمارا دھرنا جاری ہے۔ دودا الٰہی اور غمشاد بلوچ کی رہائی کے لیے ہمارا دھرنا کراچی پریس کلب کے سامنے جاری ہے، ہم تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے گزارش کرتے ہیں کہ آج رات 12 بجے ہمارا ساتھ دیں۔

Share This Article
Leave a Comment