بلوچستان اور پنجاب یونیورسٹی میں بلوچ طلبا وطالبات پر تشددکوجائز قرار دینے اور فحاشی کے پھیلانے کے الزامات پر بلوچستان حق دو تحریک کے قائد مونا ہدایت الرحمان کیخلاف بلوچستان اور بلوچ حلقوں میں سوشل میڈیا پرشدیدردعمل دیکھنے میں آرہا ہے۔
مولانا ہدایت الرحمان کے انٹرویو پر مبنی ایک ویڈیو کلپ سوشل پر گردش کر رہی ہے جس میں وہ بلوچستان یونیورسٹی میں بلوچ طلبا وطالبات پر فحاشی کے الزامات لگارہے ہیں جبکہ پنجاب یونیورسٹی میں بلوچ طلبا پر جماعت اسلامی کے طلبا کی جانب سے کی گئی تشدد کو جائز قرار دے رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بلوچی زبا ن کے معروف قومی شاعر و دانشورمبارک قاضی کا ردعمل دیتے ہوئے کہناتھا کہ ”ملا نے اپنا اصلی رنگ دکھا دیا ہے۔بلوچ قوم دھوکے میں نہ رہے کہ مولانا ایک غریب بلوچ کا بیٹا ہے اور میر ومعتبرکے سامنے کھڑا ہے ۔اگرچہ یہ میر و معتبر کرپٹ ہیں کہ لیکن جماعت اسلامی میں شامل ہونے کی ترغیب دینے والے بلوچ قوم کیلئے اتنے نقصاندہ ہیں کہ ہمیں اندازہ نہیں ہے۔ہوش میں رہو اور کنویں میں چھلانگ مت لگاؤ۔
مبارک قاضی مزید لکھتے ہیں کہ جماعت اسلامی کچھ بھی کر لے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑتی۔ اس کے علاوہ ہم جیسے بھی ہیں اپنے حال میں ٹھیک ہیں اگر کوئی بہتری نہیں کر سکتا کم سے کم اسلام کے پاکستانی ورژن کو بلوچ سماج میں پھیلا کر ہمیں مزید تباہی کی طرف نہ دکھیلے۔
اسی طرح بی این ایم کے خارجہ سیکر ٹری حمل حیدر نے سوشل میڈیا پر اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ”یہی ہے ملا کی اصلی رجعتی شکل و صورت“۔ مولانا صاحب کی پارٹی جماعت اسلامی روزِ اوّل سے ریاست کی ہر بلوچ کُش پالسی پر اسکی حمایتی رہی ہے۔
ایک اور صار ف”کیا بلوچ“ جو بلوچستان کے ایک صحافی ہیں نے لکھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا نے مکران خصوصاً گوادر کے مسائل کو اجاگر کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ لیکن اگر مولانا سمجھتے ہیں کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے مسائل حل کر سکتی ہے تو میں انہیں یاد دلا ہوں کہ نواب بگٹی کے قتل کے وقت ان کی جماعت بلوچستان میں جام یوسف کا اتحادی تھا۔
بلال بلوچ نامی ایک صارف نے لکھا کہ پنجاب کے یونیورسٹیوں میں بلوچ اسٹوڈنٹس پر تشدد کی مذمت کرنے کے بجائے اپنی جماعت ک دفاع کررہے ہیں اور بلوچوں کو بے حیائی کے القابات سے نواز رہے ہیں اگر اب کوئی اس خوش فہمی میں ہے کہ یہ بلوچوں کو ان کے حق دلوائے گا تو اس کی عقل پہ لاکھوں سلام۔
مولانا ہدایت الرحمان کے مذکورہ انٹرویو کے ردعمل پر بی ایس او نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں اس کی شدید مذمت کی ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے جماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سیکرٹری مولانا ہدایت الرحمن کے انٹریو کے دوران بلوچ طلبااور خواتین کے متعلق نازیبا بیان پر سخت رد عمل دیتے ہوئے اسے دانستہ طور پر بلوچ تحریک میں خواتین اور طلبہ کے کردار کو متنازع بنانے کی سازش قرار دیا ہے۔
ترجمان بی ایس او نے کہا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ایک انٹرویو میں مولانا ہدایت الرحمن پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبائکی جانب سے بلوچ و پشتون طالبعلموں پر تشدد کو جائز قرار دیتے ہوئے الزام لگاتے ہیں کہ بلوچ طلبائجامعہ پنجاب میں غیراخلاقی حرکات کرتے ہیں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ مولانا اپنی جماعت کی طرف داری میں اس حد تک غیر سیاسی ہوجاتے ہیں کہ وہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں بلوچ طلبائپر منشیات کے استعمال سمیت فحاشی جیسے گھٹیا الزامات لگاتے ہیں جو انتہائی مضحکہ خیز اور بے بنیاد ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ مولانا ہدایت الرحمن کی جانب سے جامعہ بلوچستان میں پڑھنے والی بلوچ و پشتون خواتین کیخلاف نازیبا الفاظ استعمال کئے اور جامعہ بلوچستان میں جنسی ہراسانی کے سکینڈل کی ذمہ داری سے جامعہ انتظامیہ اور سرکار کو بری الذمہ قرار دیتے ہوئے سکینڈل کی ذمہ دار طلبا و طالبات کو قرار دینے سے واضح ہوگیا کہ موصوف ایک مخصوص ایجنڈے کی تکمیل کیلئے کارفرما ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ مولانا ہدایت اپنے سیاسی مقاصد کے لئے تو خواتین کو سیاسی مظاہروں اور جلسے جلوسوں کے لئے باہر نکالتے ہیں جس کی واضح مثال رواں سال گوادر میں ہونے والی خواتین کی ریلی ہے لیکن انہیں بلوچ خواتین کا جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا مناسب نہیں لگتا۔ جب اپنے سیاسی عزائم کیلئے مولانا نے ہزاروں بلوچ خواتین کو سڑکوں پر نکال کر احتجاج کیا جبکہ دوسری جانب انہی بلوچ خواتین کی کردار کشی کرکے انکے تعلیمی کیرئیر پر اثرات مرتب کررہے ہیں۔
بی ایس او کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس سے پہلے بھی موصوف بلوچستان کے تعلیمی اداروں کو فحاشی کا اڈہ قرار دے چکے ہیں۔ اس طرح کے غیر مہذب الفاظ کا استعمال اس بات کی عکاسی ہے کہ موصوف ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت بلوچستان کی روایات کو مسخ کرنا چاہتے ہیں۔
ترجمان بی ایس او نے آخر میں کہا ہے کہ بلوچستان کے تعلیمی ادارے ہمارے گھر ہیں جہاں بلاتفریق مرد ق خواتین بلاتفریق تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ مولانا کے بیان سے تمام طالبعلموں کی نہ صرف دل آزاری ہوئی بلکہ مذہبی جنونیت میں مبتلاۂوکر مولانا نے بلوچ خواتین کی کردار کشی کی۔ موصوف اپنے بیان پر پوری قوم سے معافی مانگیں۔