بلوچ طلبا کی جبری گمشدگیاں تعلیمی دروازے بند کرنیکی سازش ہے،بی ایس سی لاہور

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل لاہور کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں گزشتہ دنوں بلوچ طلبا کی جبری گمشدگی کے لہر میں تیزی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ طلبا کی جبری گمشدگی و ہراسگی پورے قوم پر تعلیم کے دروازے بند کرنے کی سازش ہے۔ کراچی سے لیکر روالپنڈی تک ملک کے کسی بھی کونے میں اب بلوچ طلبا محفوظ نہیں، جسکی وجہ سے طلبا ایک پریشان کن نفسیاتی کشمکش کا شکار ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ کراچی واقعہ کے بعد اجتمائی سزا کی صورت طلبا کی جبری گمشدگی و ہراسمنٹ میں تیزی انتہائی تشویشناک ہے۔ کراچی یونیورسٹی سے تین بلوچ طلبا، دودا الٰہی اور گمشاد بلوچ جو شعبہِ فلسفہ میں زیرِ تعلیم ہیں اور کلیم اللہ، جو کہ ایم۔اے سوشیالوجی میں زیرِ تعلیم ہیں، کی جبری گمشدگی بہت سارے سوالات اٹھاتی ہے۔ سوالات بلوچ طلبا کی سیکیورٹی کو لیکر؟ سوالات طلبا کے مستقبل کو لیکر؟ سوالات اس پریشان کن نظام پر!

ملک کے مختلف تعلیمی اداروں میں بلوچ طلبا کی مسلسل پروپائلنگ و ہراسمنٹ سے لیکر اُن کی جبری گمشدگی نے طلبا کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ جس کے سبب زندہ رہنے اور پڑھنے کا حق مانگتے بلوچ طلبا ہر روز آپ کو ملک کے کسی کونے میں اپنے دوستوں کی پوسٹر تھامے انصاف پکارتے ملیں گے۔ ایرڈ یونیورسٹی راولپنڈی سے سترہ سالہ طالبعلم فیروز بلوچ کی جبری گمشدگی اسی واقعہ کی کڑی ہے۔

ترجمان نے بیان کے آخر میں تمام انسان دوست تنظیموں، بلوچ طلبا اور سماجی کارکنان سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اس اجتمائی سزا کے خلاف آواز اٹھانے میں ہماری مدد کریں، کیونکہ اجتمائی سزا کو صرف اور صرف اجتمائی مزاحمت اور یک مشت ہوکر ظلم کے خلاف کھڑے ہوکر مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment