پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے درست فیصلے نہ کیے تو فوج تباہ ہو جائے گی اور پاکستان کے تین حصے ہو جائیں گے۔
ان خدشات کا اظہار انھوں نے ایک نجی ٹی وی چینل ”بول“کے پروگرام سے بات کرتے ہوئے کیا۔
ان سے جب سوال پوچھا گیا کہ اگر ملک کی اسٹیبلشمنٹ ان کا ساتھ نہیں دیتی تو ان کا آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہو گا۔
اس کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’مجھے اللہ نے جو کچھ دینا تھا دے چکا ہوا دنیا میں، وزارتِ عظمیٰ پر بھی بیٹھا رہا ساڑھے تین سال۔ یہ اصل میں پاکستان کا مسئلہ ہے، اسٹیبلشمنٹ کا مسئلہ ہے۔ اگر اسٹیبلشمنت صحیح فیصلے نہیں کریں گے، یہ بھی تباہ ہوں گے فوج سب سے پہلے تباہ ہو گی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ جب سے آئے ہیں روپیہ گر رہا ہے، ڈیفالٹ کی طرف جا رہا ہے پاکستان۔ اگر ہم ڈیفالٹ کر جاتے ہیں تو سب سے بڑا ادارہ کون سا ہے جو متاثر ہو گا، پاکستانی فوج۔
’اس کے بعد ہمارے سامنے کیا شرط رکھی جائے گی، کہ ہم جوہری اثاثے ختم کر دیں، جب وہ چلا گیا تو پھر کیا ہو گا۔ میں آپ کو آج کہتا ہوں کہ پاکستان کے تین حصے ہوں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس وقت اگر صحیح فیصلے نہیں کیے جائیں گے تو ملک خودکشی کی طرف جا رہا ہے۔ میں اس لیے زور لگا رہا ہوں۔‘
عمران خان کے بیان پر پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری نیردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’کوئی بھی پاکستانی اس ملک کے ٹکڑے کرنے کی بات نہیں کر سکتا، یہ زبان ایک پاکستانی کی نہیں بلکہ مودی کی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’عمران خان دنیا میں اقتدار ہی سب کچھ نہیں ہوتا، بہادر بنو اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر سیاست کرنا اب سیکھ لو۔‘
آصف زرداری کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اس ملک کے تین ٹکڑے کرنے کی خواہش ہمارے اور ہماری نسلوں کے جیتے جی پوری نہیں ہو سکتی۔‘