پنجاب یونیورسٹی میں بلوچ و پشتون اسٹوڈنٹس کیخلاف کریک ڈاؤن، 25 طلبہ گرفتار

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پنجاب یونیورسٹی میں بلوچ و پشتون طلبہ پر تشدد کیخلاف پولیس کے کریک ڈاؤن میں بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل کے چیئرمین احسان بلوچ اور چیئرمین پشتون ایجوکیشن ڈویلپمنٹ کے چیئرمین ریاض خان 25 ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیے گئے۔

کہا جارہا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان کی جانب سے بلوچ اور پشتون طلبہ پر تشدد اور فائرنگ کی گئی جس میں متعدد طلبہ زخمی ہوئے۔

اس کے بعد پولیس نے ہاسٹلوں میں بلوچ اور پشتون طلبہ کیخلاف کریک ڈاؤن کیا۔ جس کے بعد چیئرمین احسان بلوچ اور چیئرمین ریاض خان سمیت 25 دیگر طلبہ کو گرفتار کیا گیا۔ جنہیں لاہور کے مختلف حوالات میں قید کیا گیا ہے۔

واقعہ کیخلاف اور اپنے ساتھیوں کی رہائی کیلئے پنجاب یونیورسٹی میں طلبہ کی جانب سے احتجاجی دھرنا جاری ہے۔

دوسری جانب بلوچ سٹوڈنٹس کونسل لاہور کی جانب سے اس حملے کی اطلاعات جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تمام تعلیمی اداروں کے طلباء کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ آج جامعہ پنجاب میں ایک غنڈہ گرد تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ نے جامعہ پنجاب میں بلوچ اور پشتون سٹوڈنٹس پہ حملہ کیا اور سائنس کالج سے غنڈوں کی بھاری تعداد جامعہ میں گھسا کر جامعہ کے طلبہ پر بہمانہ تشدد کیا جس کے باعث متعدد طلبہ زخمی اور گرفتار ہوئے۔

بلوچ سٹوڈنٹس کونسل لاہور کے ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوے کہا ہے کہ جمعیت کے غنڈوں نے پولیس اور انتظامیہ کی موجودگی میں ہمارے طلبہ پر فائرنگ کی، بدترین تشددکیا اور کئی طلبہ کو زخمی کرکے وہاں سے فرار ہو گئے۔جمعیت کے فرارہونے کے بعد انتظامیہ کی سرپرستی میں پولیس نے بلوچ، پشتون طلبہ پر لاٹھی چارج کیا اور ہاسٹلوں و مختلف مقامات سے طلبہ کو گرفتار کیا۔

یاد رہے تاحال جمعیت کے غنڈوں کے خلاف انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ہم اس واقعے کی پرزورمذمت کرتے ہیں اور ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمارے تمام گرفتار طلبہ کو رہا کیا جائے اور جامعہ میں بدامنی پھیلانے پر شرپسند عناصر جمعیت کے غنڈوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

بی ایس سی لاہور، کی جانب سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ بلوچ طلبہ کی گرفتاریوں کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔بلوچ طلبہ کی مختلف مقام پر پروفائلنگ کی جا رہی ہے اور ان کو ہاسٹل جامعات اور تمام حاضر مقامات سے غیر قانونی طور پر اٹھایا جارہا ہے۔ بلوچ طلبہ کو پہلے سے ہی پنجاب اور وفاق میں مختلف حربے استعمال کرکے ہر اساں کیا جارہا ہے، جسکا واضح معنی یہ ہے کہ بلوچ طلبہ کو تعلیم سے دور رکھنے کی مسلسل کوشش کی جارہی ہے۔ بلوچ طلبہ کی پروفائلنگ کی کڑی میں حال ہی میں ایرڈ یونیورسٹی اسلام آباد کے طالب علم فیروز بلوچ کو جبری طور پرلاپتہ ہے کوہی پتہ نہیں ہے۔

بلوچ سٹوڈنٹس کونسل کے ترجمان نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ جتنے بلوچ اور پشتون طلبہ گرفتار ہوئے ہیں ان سب کو جلد از جلد بازیاب کیا جائے اور جماعتی غنڈوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ ہم تمام انسانی حقوق کے علمبرداروں، سیاسی و سماجی رہنماؤں، طلبہ تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ بلوچ اور پشتون طلبہ کی آواز بنکر تمام طلبہ کی رہائی میں اپنا کردار ادا کرے۔

Share This Article
Leave a Comment