بلوچستان میں حکومت اسٹیبلشمنٹ کی ہوتی ہے،مولانا فضل الرحمن

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ اور قائد جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمٰن نے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواکے مرکزی شہرپشاور میں ایک قبائلی جرگے اور تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں حکومت اسٹیبلشمنٹ کی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اتحادی جماعتوں نے متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔

بلوچستان کے صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ بلوچستان، پاکستان میں بعد میں شامل ہوا لیکن آج تک بلوچستان میں اسٹیبلشمنٹ کی حکومت ہے، وہاں کی حکومت کی حیثیت ڈمی ہوا کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لاکھ دفعہ انضمام ہو لیکن وہاں پر دہشت گردی کے نام پر جو تنظیمیں ہیں، وہاں پر جو بندوق کی سیاست چل رہی ہے، پھر اس کے خلاف آپریشن ہوں گے تاکہ پاکستان کی طاقتور قوتوں کو موجود رکھنے کا جواز ملے۔

انہوں نے کہا کہ آپ جمہوری ہوا میں زندگی نہیں گزار سکیں گے بے شک آپ کے منتخب نمائندے ہوں جو بظاہر نظر آئیں گے لیکن جمہوریت کمزور رہے گی، انسانی حقوق پامال ہونگے، اور یہ چلتا رہے گا۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ میں پرانی بات دہرا دوں تو پتا نہیں آپ کا کیا ردعمل ہوگا؟ میری بات نہیں مانی گئی جب کہا کہ قبائل سے پوچھ لو، ریفرنڈم کروا لو، پانچ سال گزرنے کے بعد انضمام کا مزہ آگیا ہوگا، اب تو انضمام کے ذریعے سے خوشحالی آچکی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اب تو قبائلی علاقہ پیرس بن گیا ہوگا، چلو آج ریفرنڈم کروا لو پتا چل جائے گا قبائلی عوام مسترد کرتے ہیں یا قبول، اگر واقعی خوشحالی آئی ہے تو لوگ کہیں گے ہمیں انضمام قبول ہے، عوام کی مرضی جس کا حق انہیں اللہ نے دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب اللہ انسان کو فیصلہ کرنے کا حق دیتا ہے تو وہ حق ان سے طاقت ور انسان چھین لیتا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہپاکستان کی اس مشکل میں سیاستدانوں اور اداروں کو ایک پیج پر مشترکہ اور متفقہ کردار ادا کرنا ہوگا، کوئی اپنی بالادستی یا طاقت ور ہونے کا احساس نہ دلائے، جمہوریت کی کمزوری کا احساس نہ دلایا جائے۔

پشاور میں قبائلی جرگے اور تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک سب کا ہے اگر ملک ڈوبتا ہے تو فوج کا بھی ڈوبتا ہے، بیوروکریسی کا بھی ڈوبتا ہے، فضائیہ کا بھی ڈوبتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی طاقتیں جبر کی بنیاد پر کمزور اقوام پر اپنے فیصلے مسلط کرتی ہیں اور مقامی اسٹیبلشمنٹ کو دباؤ میں لاکر اپنی ہی قوم پر جبری فیصلے مسلط کروانے والی قوم کا مستقبل کیا ہوگا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ظاہر ہے جو شکایات آج آپ کر رہے ہیں ساری باتیں آپ سے کہی ہیں، مجھے کہا گیا کہ مولانا صاحب آپ تو قبائل کے نمائندے نہیں ہیں آپ کیوں قبائل کی بات کرتے ہیں؟ اور قبائل کے تمام نمائندے ہمارے ساتھ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے سے کہا گیا کہ قبائل کے 19 نمائندے ہیں جس میں سے 4 آپ کے ساتھ باقی ہمارے ساتھ ہیں لیکن ان 15 کے ہاتھ پاؤں باندھے ہوئے ہیں، ابھی ان کے ہاتھ کھول دیں میں پریس کانفرنس کرکے ان 15 افراد سے فاٹا کے انضمام کے خلاف بیان دلواؤں گا۔

Share This Article
Leave a Comment