بی وائی سی نے بلوچ خواتین کی جبری گمشدگی کیخلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کردی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ترجمان نے کراچی سے بلوچ آرٹسٹ و شاعرہ حبیبہ بلوچ کی جبری گمشدگی اور نور جان بلوچ کے خلاف جھوٹے مقدمات کے سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیاں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور بلوچ سماج کی چادر و چار دیواری کی پامالی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ریاست بلوچستان میں اپنے مظالم کو چھپانے کے لیے دروغ گوئی کا سہارہ لیکر جھوٹ پر مبنی بیانہ سامنے لا رہا ہے۔ہوشاپ سے نور جان بلوچ کورات کے سہ پہر اپنے گھر سے نیند کی حالت میں جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا پھر رد عمل کے سبب انہیں منظر عام پر لاکر ان پر خودکش بمبار ہونے کا جھوٹا الزام عائد کیا گیا۔ اسی طرح گزشتہ روز کراچی سے بلوچ شاعرہ و آرٹسٹ حبیبہ بلوچ کو فجر کے وقت اپنے گھر سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا اور تا حال حبیبہ بلوچ کو منظر عام پر لایا گیا اور نہ ہی ان کے بارے میں خاندان والوں کو معلومات دی جارہی ہے۔ بلوچ خواتین کے جبری گمشدگی کے خلاف بلوچ عوام میں شدید غم وغصہ پایا جا تا ہے اور عوام سراپا احتجاج ہے۔

عوامی احتجاج و مزاحمت اس بات کا واضع ثبوت ہے کہ بلوچ عوام ریاستی بیانیے کومستر دکر چکی ہے اور ریاستی مظالم کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کے مانند کھڑے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ یکجہتی کمیٹی مکران میں حق دو تحریک کے شٹرڈاؤن ہڑتال سمیت بلوچستان بھر میں ریاستی مظالم کے خلاف ہونے والے احتجاجی تحریکوں کی حمایت کرتی ہے اور عوام سے اپیل کرتی ہے کہ اپنے گھروں سے نکلیں اور عوامی مزاحمت کا حصہ بنیں۔

Share This Article
Leave a Comment