آزادی پسند بلوچ رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ”ٹوئٹر“ پر گذشتہ دنوں ضلع کیچ کے علاقے ہوشاپ میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ ہونے والے بی بی نور جان بلوچ کے حوالے سے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ
”ہوشاپ سے بی بی نورجان اور گچک سے نوزائیدہ بچے کی جبری گمشدگی،آزادی پسند تنظیموں کی اس خدشے کو درست سچ ثابت کرتی ہے کہ پاکستان بلوچ قوم کی نسل کشی چاہتی ہے۔“
انہوں نے کہا کہ ”بلوچ قوم جانتی ہے کہ آزادی کے بغیر ان کے پاس دوسراراستہ نہیں ہے۔“
واضع رہے کہ گذشتہ روزہوشاپ میں سی ٹی ڈی پولیس نے ایک گھر پر چھاپہ مارکر بی بی نورجان کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا اور اس واقعہ ردعمل میں علاقہ مکینوں نے احتجاجاً سی پیک روڈ پر دھرنا دیکر اسے ہر طرح کی آمدو رفت کیلئے بند کردیا ہے،جوہنوز جاری ہے۔
نور جان سمیت دیگر بلوچ خاتون کی جبری گمشدگی کیخلاف گذشتہ روز بی این ایم کی جانب سے بھی ایک آن لائن ہنگامی پریس کانفرنس کی گئی جس میں پاکستانی سیکورٹی اداروں کی جانب سے بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کو ناقابل برداشت قرار دیا گیا تھا۔