بلوچ طلبا کی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فی الفور روکا جائے،ڈی ایس ایف

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن پاکستان نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ بیبگر امداد کی بازیابی خوش آئند ہے مگرطلبا کی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فی الفور روکا جائے۔

بیان میں کہا گیا کہ ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن پاکستان جبری گمشدہ بلوچ طالبعلم بیبگر امداد کی بحفاظت بازیابی و رہائی پر بیبگر امداد اور تمام بلوچ طلبہ کو مبارک باد پیش کرتی ہے۔یاد رہے کہ بیبگر امداد نمل یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ہیں جن کو 27 اپریل 2022 کی صبح پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل سے جبری طور پر اغواء کر لیا گیا تھا۔

بیبگر امداد کی رہائی کے لیے بلوچ طلبہ کی جدوجہد قابل ستائش ہے کہ جنہوں نے دن رات ایک کر کے سخت دھوپ، گرمی و دیگر مصائب کی پرواہ کئے بغیر پنجاب یونیورسٹی کے وی سی آفس کے سامنے 14 دن تک احتجاجی کیمپ لگائے رکھا۔حتیٰ کہ ان بہادر طلبہ نے عید کا دن بھی اسی کیمپ میں گزارا۔ڈی ایس ایف بلوچ طلبہ کی بہادری اور انکی کاوشوں کو سلام پیش کرتی ہے۔

ڈی ایس ایف حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ تعلیمی اداروں کو طلبہ کے لیے محفوظ بنایا جائے تا کہ آئے دن طلبہ گمشدگی کے واقعات کی روک تھام ہو سکے. پورے ملک میں بلوچ طلبہ کی پروفائلنگ و حراسانی کو بند کیا جائے. طلبہ کی جبری گمشدگیوں کو فی الفور روکا جائے۔

جہاں ہم بیبگر امداد کی بازیابی پر مسرت کا اظہار کر رہے ہیں تو وہیں پر دوسری طرف 3 روز قبل لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر، واٹر اینڈ میرین سائنسِز کے طالبعلم ظہور بلوچ کو جبری گمشدہ کیا گیا ہے اور ان جیسے دیگر جبری گمشدہ افراد کی بازیابی اور اس عمل کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے۔سپریم کورٹ آف پاکستان کو طلبہ کے جبری گمشدگیوں میں ملوث کرداروں کے خلاف سخت ایکشن لینے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے غیر قانونی و ماورائے عدالت امر کو روکا جا سکے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment