ریاست کو باغیوں اور سیاسی سرگرمیاں کرنیوالوں میں فرق کرنا چاہیے، سمی دین

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے سیکر ٹری جنرل اوربلوچ و انسانی حقوق پر کام کرنے والے سیمی دین بلوچ نے امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ہونے والے سانحہ کے بعد بلوچ طلبا کے لیے یونیورسٹیوں میں رہنا، پڑھنا اور عام معمول کی سیاسی سرگرمیوں میں شامل ہونا بہت مشکل ہو گیا ہے۔

اُن کے بقول ریاست کو سمجھنا چاہیے کہ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم طلبہ کسی ریاست مخالف سرگرمی میں ملوث نہیں ہوتے۔ ریاست کو باغیوں اور سیاسی سرگرمیاں کرنے والوں کے درمیان فرق کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حملہ کرنے والی خاتون شاری بلوچ 2015 میں بلوچستان یونیورسٹی میں تھی، اس کے بعد وہ شادی کرنے کے بعد پنے گھر میں رہیں، اتنے برسوں میں ان کا تعلق کس کے ساتھ رہا اور کون کون ان کے ساتھ رابطہ میں رہا، اس پر تعلیمی ادارے کو موردالزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے ہمیں صرف مرد طلبہ کے حوالے سے فکر ہوتی تھی لیکن اب خواتین کے حوالے سے بھی ہم پریشان ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ آئندہ کچھ عرصہ میں خواتین کے ساتھ بھی سختی ہو اور ان کے خلاف بھی کریک ڈاؤن ہو سکتا ہے۔

سیمی دین بلوچ نے کہا کہ سیاسی سرگرمیوں اور روزانہ آنے جانے والے طلبہ کا ریاست کے باغیوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ کراچی یونیورسٹی میں ہی دیکھا جائے تو وہاں پر سخت سیکیورٹی ہے۔وہاں پر وائس چانسلر کی اجازت کے بغیر کوئی سیاسی سرگرمی نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی یونیورسٹی کے اندر ایسا واقعہ ہونا افسوسناک ہے جو اب دیگر طلبہ کے لیے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment