بی این پی مینگل نے پاکستان کی قومی اسمبلی میں غیرآئینی رولنگ اور اسمبلی تحلیل کرنے کیخلاف احتجاجی مظاہروں کا اعلان کردیا ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کی جانب سے تین اپریل کو ڈپٹی اسپیکرکی غیر آئینی رولنگ اور اس کے بعد وزیراعظم کی جانب سے اسمبلی کو تحلیل کرنے اور صدر کی جانب سے غیر آئینی فیصلوں کی توثیق اور آئین کو توڑنے اور جمہوری اداروں کی تحلیل غیر توقیری غیر قانونی و غیر آئینی اقدامات کے خلاف بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہروں کا باقاعدہ اعلان کیا گیا ہے اور بلوچستان بھر کر پریس کلبز کے سامنے شدید احتجاج کیا جائے گا۔
شیڈول کے مطابق 7اپریل کو نوشکی چاغی خاران بسیمہ 8اپریل بروز جمعہ قلات، مستونگ، سوراب 9اپریل تربت پنجگور واشک 10اپریل گوادر پسنی لسبیلہ حب 11اپریل کوئٹہ کراچی 12اپریل سبی نصیر آباد جعفر آباد جیکب آباد 13اپریل خضدار کوہلو بارکھان موسی خیل 14اپریل کچھی بولان ہرنائی لورالائی صحبت پور زیارت قلعہ سیف اللہ ڈیرہ غازی خان شہداد کوٹ میں مظاہرے کئے جائیں گے۔
اعلامیہ میں صدور جنرل سیکرٹریز آرگنائزر ڈپِٹی آرگنائزر کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سول مارشل لاکے خلاف اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کروائیں نام نہاد حکمرانوں نے جمہوریت جمہوری اداروں پر شب خون مارنے اور ایک بار پھر سلیکٹڈ انتخابات کا ڈرامہ رچانے اور جمہوری اداروں اور آئین کو پان تلے روندنے کیلئے جو اقدامات کئے ہیں وہ جمہوری اداروں کے استحکام آئین و پارلیمنٹ کے خلاف گہری و گھناؤنی سازش ہے۔
بی این پی ہر فورم پر پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں اپنا سیاسی کردار ادا کرتے رہیں گے فاشسٹ حکمرانوں نے جمہوریت کا گلہ گھونٹنے کے بعد بھی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں ملک بھر کے سیاسی جمہوری پارٹیاں سول سوسائٹی انسانی حقوق کی تنظیموں اور تمام طبقہ فکر کی ذمہ داری ہے کہ وہ شدید احتجاجی کر کے باور کرائیں کہ جمہوریت دشمن قوتوں کے خلاف ہیں بلوچستان سمیت ملک بھر کے عوام اتنے سادہ نہیں کہ انہیں مزید دھوکہ دیا جا سکے۔
حکمرانوں کا یہ عمل بھی قابل مذمت ہے کہ متحدہ اپوزیشن کی جماعتیں پارٹی اکابرین اور 199ایم این ایز کو غداری کے القابات سے نوازا جا رہا ہے یقینا اس سے ملک میں انارکی پھیلے گی جنگل کے قانون کے ذریعے ملکی معاملات کو چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو ممکن نہیں صدر وزیراعظم ڈپٹی آرگنائزر آئین توڑنے کے مرتکب ہوئے ہیں ان کے خلاف فوری طور پر آرٹیکل 6کے تحت گرفتاری کو یقینی بنایا جائے ریاستوں میں آئین و پارلیمنٹ مقدس ہوتے ہیں مگر انہوں نے ملکی آئین کو بھی ردی کا کاغذ سمجھ کر پاں تلے روند ڈالا اور چند منٹوں میں متحدہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو اجلت میں جو لکھ کر دیا گیا اسی کی بنیاد پر جمہوریت کی بساط لپیٹ لی۔
اب ذمہ داری عدالت عظمی کی ہے کہ وہ آئین کی بالادستی کیلئے اقدام اٹھائے اس کے برعکس عوام کا جمہوریت سے اعتماد اٹھ جائے گا اور مستقبل میں ہر کوئی ذاتی گروہی مفادات اور اناکی تسکین کیلئے پارلیمنٹ کی بے توقیری کرے گا اور جمہوریت کی بساط کو چند منٹوں میں لپیٹ لے گا اور ایسے معاشرے کے وجود کے آنے کا قوی امکان ہو گا جس میں لوگ اپنے مرضی و منشاکے مطابق قوانین ترتیب دے کر حکمرانوں کے بارے میں سوچیں گے۔
بی این پی سمجھتی ہے کہ آج عدالت عظمی سمیت وکلا انسانی حقوق کے علمبردار سیاسی رہنما کارکنان سمیت ہر طبقہ فکر کے لوگ اس غیر جمہوری غیر آئینی اقدامات کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور احتجاجی مظاہروں میں شرکت کر کے جمہوریت پسندی قوم دوستی کا ثبوت دیں اور جمہوری اداروں کو تقویت دینے کیلئے اپنا سیاسی کردار ادا کریں پارٹی ہر فورم پر ایسی روش کے خلاف جدوجہد کو اپنی حق گردانتی ہے۔