ٹی ٹی پی کا رمضان میں حملے تیز کرنیکا اعلان،ہدف فورسز ہونگے

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع میں فورسز پر حالیہ حملوں میں پاکستانی فوج کے دو افسروں سمیت 9اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ ہیں۔

تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے ان حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے اور رمضان میں سیکیورٹی فورسز کے خلاف حملے تیز کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

ضلع ٹانک میں فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کے ایک کیمپ پر عسکریت پسندوں نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب حملہ کیا تھا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ‘تین حملہ آوروں نے ٹانک کے علاقے میں ایک فوجی کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی، اس دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی جس میں تینوں مارے گئے۔”

آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے اس تبادلے میں چھ اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔اس سے قبل منگل کو سیکیورٹی فورسز اورعسکریت پسندوں کے درمیان جنوبی وزیرستان کے علاقہ مکین میں فائرنگ کے تبادلے میں پاکستانی فوج کے 25 سالہ کپتان سعد بن عامر ہلاک ہو گئے تھے۔

ٹی ٹی پی مارچ میں مجموعی طور پر 39 کارروائیوں کی ذمے داری قبول کر چکی ہے۔

یہ حملے جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، چترال، پشاور، مہمند ایجنسی، کرم ایجنسی، خیبر ایجنسی، باجوڑ ایجنسی، لکی مروت، ٹانک اور درہ آدم خیل میں کیے گئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں کارروائیوں میں تیزی سے اضافہ متوقع تھا۔

شدت پسندی کے موضوع پر تحقیق کرنے والے محقق اور پشاور یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغ عامہ سے منسلک پروفیسر ڈاکٹر سید عرفان اشرف کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی نہ تو مکمل طور پر ختم ہوئی ہے اور نہ ہی افغان طالبان میں ضم ہوئی ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید بتایا کہ سابق صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت کے خاتمے کے بعد طالبان نے بگرام، قندھار اور پل چرخی میں قید تمام قیدیوں کو رہا کر دیا جن میں تین ہزار کے لگ بھگ ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے جنگجو بھی شامل تھے۔

اُن کے بقول جس طرح افغان طالبان ‘اسپرنگ آفینس’ یعنی موسمِ بہار میں افغانستان میں حملوں میں شدت لے آتے تھے، اسی طرح پاکستانی طالبان بھی پاکستان میں اسی حکمتِ عملی کے تحت حملے کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر عرفان اشرف کہتے ہیں کہ انہیں خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں شدت آ سکتی ہے کیوں کہ مذاکرات کے ادوار کے باوجود ریاستِ پاکستان اور تحریکِ طالبان کے درمیان کوئی امن معاہدہ نہیں ہوا۔

اُن کے بقول ٹی ٹی پی کے جنگجو اپنی کارروائیوں میں اب گھات لگا کر بھی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس سے قبل ٹی ٹی پی کے جنگجو مختلف شاہراوں اور چوراہوں میں بم دھماکے کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے عام شہریوں کا جانی و مالی نقصان زیادہ ہوتا تھا۔

پاکستان میں اکثر کالعدم تنظیمیں ماہِ رمضان کے احترام میں شدت پسندی کی کارروائیوں میں کمی لاتی رہی ہیں، لیکن ٹی ٹی پی نے اپنے تازہ پیغام میں اپنی کارروائیوں میں شدت لانے کا کہا ہے۔

ڈاکٹر عرفان اشرف کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی نے سیکیورٹی فورسز کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وہی ان کے نشانے پر ہوں گے۔ موسم ان کے لیے سازگار ہے اور برف نہ ہونے کی وجہ سے سرحد پار گزرگاہیں بھی کھلی ہوں گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ جب تک ٹی ٹی پی کے ساتھ جامع مذاکرات کے ذریعے کوئی دیرپا حل نہیں نکالا جاتا، اس وقت تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

گزشتہ سال اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ٹی ٹی پی کے کم از کم 6000 شدت پسند افغان سرزمین پر موجود ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment