امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان میں عدم اعتماد کی تحریک میں کردار سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ عدم اعتماد میں امریکاکے ملوث ہونے کے الزامات میں صداقت نہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد کے بارے میں دھمکی آمیزخط میں صداقت نہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں جاری صورتحال کو مانیٹرکررہے ہیں، پاکستان کے آئینی عمل کی تکریم کرتے ہیں، پاکستان میں قانون کی حکمرانی کو سپورٹ کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ 27 مارچ کو اسلام آباد میں جلسہ عام سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے خط لہرایا تھا اور دعویٰ کیا تھاکہ ان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ان کی بیرونی پالیسی کے سبب ’غیر ملکی سازش‘ کا نتیجہ ہے اور انہیں اقتدار سے ہٹانے کے لیے بیرون ملک سے فنڈز بھیجے جا رہے ہیں۔
اگرچہ انہوں نے ابتدائی طور پر دھمکی آمیز خط کے بارے میں کوئی خاص تفصیلات فراہم نہیں کی تھیں لیکن اس کے بعد ناقدین کی جانب سے اس کے دعوے پر شک کرنے کی وجہ سے تھوڑی تفصیلات دیں۔
حکومت نے ابتدائی طور پر اس خط کو چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ شیئر کرنے کی پیشکش کی لیکن بعد میں وزیراعظم نے اپنی کابینہ کے ارکان کو خط کے مندرجات سے بھی آگاہ کیا۔
خفیہ دستاویزات کے افشا پر قانونی پابندی کے پیش نظر صحافیوں کے ایک گروپ کو وزیراعظم کے ساتھ بات چیت کے دوران کابینہ کے اجلاس کے نکات فراہم کیے گئے۔
اس ملاقات میں کسی غیر ملکی حکومت کا نام نہیں لیا گیا لیکن میڈیا والوں کو بتایا گیا کہ میزبان ملک کے ایک سینئر عہدیدار نے پاکستانی سفیر کو کہا تھا کہ انہیں وزیر اعظم خان کی خارجہ پالیسی، خاص طور پر ان کے دورہ روس اور یوکرین جنگ سے متعلق مؤقف پر مسائل ہیں۔
پاکستانی سفیر کو مزید بتایا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا مستقبل کا رخ اس تحریک عدم اعتماد کی قسمت پر منحصر ہے جسے اپوزیشن جماعتیں اس وقت وزیر اعظم کے خلاف لانے کا منصوبہ بنا رہی تھیں۔
سفیر کو متنبہ کیا گیا کہ اگر وزیراعظم خان عدم اعتماد کے ووٹ سے بچ گئے تو اس کے سنگین اثرات ہوں گے۔
مبینہ طور پر یہ سفارتی کیبل 7 مارچ کو اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پیش کرنے اور اس پر ووٹنگ کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے سے ایک روز قبل بھیجا گیا تھا۔
دریں اثنا علیحدہ طور پر یہ بات بھی سامنے آئی کہ یہ سفارتی کیبل امریکا میں پاکستان کے اُس وقت کے سفیر اسد مجید نے کے معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور، ڈونلڈ لو سے ملاقات کی بنیاد پر بھیجی تھی۔
سفیر اسد مجید اب اپنی نئی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے برسلز چلے گئے ہیں اور ان کی جگہ سفیر مسعود خان کو تعینات کیا گیا ہے۔