برطانیہ کی پارلیمنٹ کے ارکان نے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور اجتماعی سزا کے خدشات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک ارلی ڈے موشن (EDM) پیش کیا ہے، جس میں پاکستانی اور برطانوی حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ موشن، EDM 2745، 4 فروری 2026 کو 2024–26 کے پارلیمانی اجلاس کے دوران پیش کیا گیا۔ موشن میں محمد بخش ساجدی، نعیم ساجدی اور رفیق بلوچ کی مبینہ جبری گمشدگی پر گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے، جنھیں 2 فروری 2026 کی صبح تقریباً 3:30 بجے بلوچستان کے علاقے اسکائی بلیو، ھب چوکی میں واقع ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا۔
موشن کے مطابق ان تینوں افراد کو پاکستان کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور فوجی اہلکاروں نے بغیر کسی وارنٹ، الزام یا قانونی کارروائی کے گرفتار کیا، جبکہ تاحال ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں اور ان کا مقام نامعلوم ہے۔
موشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ محمد بخش ساجدی، ڈاکٹر نسیم بلوچ (چیئرمین، بلوچ نیشنل موومنٹ) کے والد ہیں، جبکہ نعیم ساجدی ان کے چچا اور رفیق بلوچ ان کے ماموں ہیں۔ تینوں افراد ریٹائرڈ سرکاری ملازمین ہیں۔
ارکانِ پارلیمنٹ نے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے دیے گئے حالیہ عوامی بیانات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے، جن میں یہ عندیہ دیا گیا کہ مبینہ عسکریت پسندوں کے اہلِ خانہ کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ موشن کے مطابق ایسے بیانات اجتماعی سزا کے سنگین خدشات کو جنم دیتے ہیں، جو کہ جبری گمشدگی کی طرح بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
موشن میں حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات فراہم کرے، ان کی سلامتی یقینی بنائے، اہلِ خانہ اور قانونی مشیروں تک رسائی دے، اور انھیں رہا کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جبری گمشدگیوں اور اجتماعی سزا کی مخالفت کے اپنے عزم کی توثیق کرے۔
اس کے علاوہ موشن میں برطانوی حکومت سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ یہ معاملہ فوری طور پر پاکستانی حکام کے ساتھ اٹھائے۔
اب تک اس موشن پر لیبر پارٹی کے دو ارکان نے دستخط کیے ہیں۔ جان مکڈونل، رکنِ پارلیمنٹ برائے ہیز اینڈ ہارلنگٹن، اس کے بنیادی محرک ہیں اور انھوں نے 4 فروری کو دستخط کیے، جبکہ برائن لیشمین نے 5 فروری 2026 کو اس کی حمایت کی۔ موشن میں تاحال کسی قسم کی ترمیم یا دستخطوں کی واپسی درج نہیں کی گئی۔
ارلی ڈے موشنز عموماً ارکانِ پارلیمنٹ کی جانب سے کسی اہم مسئلے کی جانب توجہ مبذول کرانے اور پارلیمانی حمایت جانچنے کے لیے پیش کی جاتی ہیں، تاہم ان پر ایوان میں باقاعدہ بحث شاذ و نادر ہی ہوتی ہے۔