پاکستان کے شہر لاہور اور بلوچستان ے ضلع کیچ سے 2طالب علموں سمیت 3افراد جبری طور پر لاپتہ ہوگئے۔
پاکستان کے صوبے پنجاپ کے دارالحکومت لاہور میں زیر تعلیم بلوچستان سے تعلق رکھنے دو طالب علم جبری گمشدگی کے شکار ہوگئے ہیں۔
واقعہ کی اطلاعات دیتے ہوئے لاہور سے تعلق رکھنے والے ڈان نیوز کے صحافی عمران گبول نے بتایا کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلباء کو منگل کی رات دس بجے سول ڈریس میں مبلوس افراد نے لاہور مسلم ٹاؤن میں واقع چائے کے اسٹال سے اغواء کیا۔
ڈان نیوز صحافی کے مطابق بلوچ طلباء لاہور پنجاب کالج کے طالب علم ہیں جنکی شناخت آدم ولد محمد علی اور عمران ولد شبیر احمد کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے ایک اور بلوچ طالب علم کا کہنا تھا کہ عمران اور آدم کا تعلق بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقہ تربت تجابان سے ہے اور دونوں فرسٹ ائیر کے طالب علم ہیں جنہیں اس قبل بھی سیکورٹی ادارے والے لاہور سے حراست میں لیکر اپنے ہمراہ لے گئے تھیں۔
انہوں نے بتایا دونوں طلباء کو اس سے قبل رواں سال جنوری میں لاہور سے دو دیگر بلوچ طلباء کے ہمراہ حراست میں لیکر لاپتہ کردیا گیا تھا تاہم بعد میں چاروں طالب علم بازیاب ہوئے تھے۔
لاہور سے اس سے قبل بھی بلوچستان کے رہائشی جبری گمشدگی کا شکار ہوئے ہیں جن میں رواں ماہ 5 مارچ کو بلوچستان سے لاہور تبلیغی جماعت کے ساتھ جانے والے ضلع نوشکی کے رہائشی ہارون ولد شاہنواز خان بادینی اور سلال ولد حاجی عبد الباقی بادینی بھی شامل ہیں جنہیں مسجد سے حراست میں لیکر بھی لاپتہ کردیا گیا تھا۔
اسی طرح فروری 2022 کے مہینے میں تین بلوچ مزدور جمال خان بلخانی، محمد نواز بلخانی اور فاروق خان جبری لاپتہ کردیے گئے تھیں۔
پنجاب میں سینکڑوں بلوچ طلباء زیر تعلیم ہیں جبکہ ان طلباء کا ماننا ہے کہ انہیں پنجاب میں سیکورٹی اداروں و یونیورسٹی انتظامیہ سمیت خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے جانب سے حراساں کیا جاتا ہے جبکہ ان رویوں کے خلاف بلوچ طلباء نے 21 مارچ کو کلاسز کا بائیکاٹ کرکے ملگ گیر احتجاج بھی کیا تھا۔
طلباء کا مزید کہنا تھا کہ سول ڈریس میں ملبوس مسلح افراد بلوچ طلباء کو ہراساں کرتے ہیں جبکہ کئی طلباء کو پولیس حراست میں لیکر اگلے دن چھوڑ دیا جاتا ہے۔
دریاں اثنابلوچستان کے ضلع کیچ سے پاکستانی فورسز نے ایک شخص کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق گذشتہ دنوں پاکستانی فورسز نے ضلع کیچ کے علاقے مند سے ایک شخص کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا ہے۔
لاپتہ ہونے والے شخص کی شناخت مسلم ولد اکرم کے نام سے ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ شخص عرب امارات میں مزدوری کے پیشے سے وابسطہ ہے جو حالیہ دنوں چھٹیاں گزارنے اپنے آبائی علاقے آیا ہوا تھا جنہیں فورسز نے گذشتہ دنوں حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ہے۔
خیال رہے کہ بلوچستان میں روزگار کے مواقع نہ ہونے کی صورت میں بلوچستان میں نوجوانوں کی اکثریت روز گار کے لئے خلیجی ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ وہاں سے بلوچستان آنے کے بعد کئی بار لوگوں کو پاکستانی خفیہ ایجنسیاں جبری گمشدگی کا شکار بناتے رہتے ہیں اس سے قبل بھی اس طرح کے واقعات بلوچستان میں رونما ہوئے ہیں۔