کوئٹہ: بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ تیز ہوا ہے، گلزار دوست کی پریس کانفرنس

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

سول سوسائٹی کیچ کے کنوینر گلزار دوست نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ تیز ہوا ہے۔

یاد رہے کہ سول سوسائٹی کیچ کے کنوینر گلزاردوست نے 27 فروری کوننگے پاؤں تربت ٹو کوئٹہ لانگ مارچ شروع کیاجو پنجگور، بسیمہ، سوراب، قلات، مستونگ سے ہوتا ہوا 21 مارچ کو کوئٹہ پہنچ گیا جہاں کیمپ بلوچ لاپتہ افرادکیمپ پہنچ کر مارچ کو احتجاجی شکل دی گئی۔

گلزار دوست کے پریس کانفرنس کے موقع پر ماما قدیر بلوچ، غفار بلوچ، بی ایس او کے رہنماء زبیر بلوچ اور لاپتہ راشد حسین بلوچ کی والدہ بھی موجود تھے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ دو دہاءِوں سے بلوچستان میں نوجوانوں، بزرگوں و خواتین کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کا سلسلہ تیز ہوا ہے اور گذشتہ 14 سالوں سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے احتجاجی کیمپ لگاکر لاپتہ افراد کے بازیابی کیلئے کوششیں جاری ہیں۔ کئی سالوں سے لاپتہ افراد کے لواحقین و وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام کئی احتجاج کیے گئے اور ایک طویل لانگ مارچ کیا گیا جو کوئٹہ سے کراچی اور اسلام آباد تک کیا گیا لیکن ریاستی اداروں کے تحویل میں رینے والے افراد کی تعداد میں کمی کی بجائے مزید خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے کو ملا۔

انہوں نے کہا کہ 27 فروری کو تربت سول سوسائٹی کے فیصلے کے مطابق ننگے پاوں کیچ تا کوئٹہ لانگ مارچ شروع ہوا یہ لانگ مارچ سول سوسائٹی کیچ کے کنوینئر کے سربراہی میں شروع ہوا جو کیچ سے ہوتا ہوا پنجگور، بسیمہ، سوراب، قلات، مستونگ سے ہوتا ہوا 21 مارچ کو شال پہنچ گیا جہاں کیمپ پہنچ کر مارچ کو احتجاجی شکل دی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس احتجاج کا مقصد لاپتہ افراد کو ریاستی اداروں کی تحویل سے نکال کر قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کرنا ہے اور ریاستی سرپرستی میں چلنے والے ڈیتھ اسکواڈ جو منشیات فروشی جیسے گناہ میں شامل ہیں، کا راستہ ایک پرامن طریقہ سے روکنا ہے جبکہ اس مارچ میں ہم نے ایف سی کی آبادیوں سے انخلاء و چیک پوسٹوں پہ تذلیل بند کرنے کے مدع کو بھی شامل کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ واقعات کو دیکھ کر ہم نے یہ فیصلہ لیا تھا کہ ہم سلو مارچ کا آغاز کرینگے جو پورے بلوچستان کے گلی کوچوں سے گزر کر بلوچ عوام کے لخت جگروں کو عقوبت خانوں سے نکالنے کے لیے آواز بلند کریگی۔ جہاں ایک طرف ہم طلبہ و طالبات، نوجوان، خواتین و بزرگوں کو ٹارچر سیلوں سے نکالنے کے لیے کوشاں ہے دوسری طرف ہمارے اوپر مزید ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر ہمیں لاپتہ و پروفائلنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

رہنماوں نے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی سے لاپتہ سہیل و فصیل بلوچ ہو یا پھر قائد اعظم یونیورسٹی کے طالب علم حفیظ بلوچ ہو یہ تمام وہ واقعات ہیں جس کے باعث ہم احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment