بلوچستان کے ضلع پنجگور میں مبینہ طور پر گھر میں چوری کے الزام میں باپ نے بیٹوں کے ساتھ ملکر بیٹی کو قتل کردیا۔
یہ واقعہ پنجگور کے نواحی علاقے راہی نگور میں پیش آیا ہے جہاں گھر میں نقد روپے غائب ہونے کی صورت میں باپ نے اپنے بیٹوں کے ساتھ ملکر بیٹی کو قتل کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق راہی نگور میں گھر سے پچاس ہزار روپے غائب ہونے کی صورت میں مذکورہ شخص نے ملا سے رابطہ کیا تھا جہاں ملا نے ازرات کرنے پر بیٹی کا نام دیا ہے پھر باپ نے دو بیٹوں کے ساتھ ملکر بیٹی کو اس قدر تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ جانبر نہیں ہوسکی۔
ذرائع بتارہے ہیں کہ بعدازاں باپ اور بیٹوں نے بیٹی کی لاش کو خاموشی میں ویرانے میں دفن کیا۔
علاقے میں واقعہ پر حوالے سے تشویش اور مذمت کا اظہار کیا جارہا ہے۔ وہیں سماجی حلقے مطالبہ کررہے ہیں کہ مذکورہ باپ بیٹوں کو گرفتار کرکے بیٹی کو انصاف فراہم کیا جائے۔
انتظامیہ کا موقف اس حوالے سے تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے بالگتر کے رہائشی ڈاکٹر ہاشم نور بلوچ تربت سے لاپتہ ہو گئے۔
خاندانی ذرائع کے مطابق کل شام پانچ بجے کے قریب تربت بازار میں مسلح افراد انہیں اغواء کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔
لواحقین نے کے مطابق اغواء کاروں کا تعلق مقامی سرکاری حمایت یافتہ گروہ سے ہے۔
لواحقین کے مطابق اس کی رہائی کیلے اغواء کار بیس لاکھ نقدی مانگ رہے ہیں۔
لواحقین نے انتظامیہ سے ہاشم نور بلوچ کی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ والدین کا اکلوتا بیٹا اور خاندان کا واحد کفیل ہے اس کی رہائی کیلئے تمام انسان دوست،انتظامیہ اور سیاسی اور سماجی پارٹیاں آواز اٹھائیں۔