کٹھ پتلی حکومت بلوچستان کے ترجمان فرح عظیم شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے اجلاس میں ناراض بلوچوں کو مزاکرات کے ذریعے قومی دھارے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بندوق اور طاقت کے زور پر کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا ہے۔تمام ناراض بلوچ رہنماؤں کو مزاکرات کی دعوت دیتے ہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پروٹکول سسٹم ختم کردیاگیا ہے۔
فرح عظیم نے کہا کہ آج عوام کے سا منے قدوس بزنجو کی تین ماہ کارکردگی رپورٹ پیش کرنیکی کوشش کررہی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ کیلئے شہری نادر سے رجوع کریں۔ہلتھ کارڈ میں بلوچستان کے ہر خاندان کے ہر فرد کیلئے 60 ہزار روپے رکھا گیا ہے۔ہیلتھ کارڈکا اجرء80 فیصد مکمل ہوچکا ہے۔ہیلتھ کارڈ کے ذریعے شہری پاکستان بھر کے ہسپتالوں سے مستفید ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ زراعت میں بہتری کیلئے حکومت ہر ممکن اقدام کررہی ہے۔بلوچستان حکومت نے 578 ٹریکٹر 50% فیصد سبسڈی میں فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔زراعت کو ترقی دینے کیلئے 254 کاشکاری ٹینل لگادیئے گئے،کوشش ہے کہ ٹیوویلوں کو شمسی پر منتقل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کی روک تھام کیلئے ای ٹریڈنگ سسٹم متعارف کرایا جارہاہے،اپوزیشن کو بھی ترقیاتی فنڈز دیئے کارہے ہیں۔