سزائے قلم | زباد بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
9 Min Read

بلوچستان کے علاقہ آواران سے تعلق رکھنے والا دلیپ بلوچ ایک غریب گھرانے کا ہونہار طالب علم ہے۔ دلیپ بلوچ پہلا طالبعلم نہیں جسے سزائے قلم ملی دلیپ جیسے بہت سے طالبعلم ایک ترقی یافتہ معاشرے کے فروغ کی کوششیں کررہی ہیں لیکن نوآبادیاتی نظام میں اس سوچ کے حامیوں کو اکثر و بیشتر قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور آج ہم بلوچستان میں یہ غیر انسانی عمل ہر گام پہ دیکھ سکتے ہیں جس میں قوم کے معمار تاریکیوں کے مسافر بنائیں جارہے ہیں جن کا جرم فقط یہ ہے کہ وہ قلم اور کتاب میں روشنیوں کے متلاشی ہیں۔

دیکھا جائے دلیپ بلوچ کی جبری گمشدگی نام نہاد ریاست اور اس کے عسکری اداروں کی طرف سے یہی اشارہ ہے کہ بلوچ نوجوان طبقہ زیورِ علم حاصل کرنے کو ذہنی دباؤ سمجھ کر کنارہ کشی اختیار کرلیں تاکہ ظلمتوں کا خاتمہ کبھی ممکن نہ ہوسکے۔

دراصل اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ریاست اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے کیوں وہ اس بات کا ادراک رکھتی ہے کہ علم و شعور کی بدولت لوگ موثر انداز سے اپنی بات لوگوں تک پہنچاسکتے ہیں لہذا قابض کی یہی کوشش ہے کہ بلوچ قوم کی آواز کو دبایا جائے یہی دراصل اس کی خیالی دنیا ہے کہ وہ اس طبقے کو ظلم کی بھٹی میں جھونک رہی ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کی ان داستانوں سے غلامی کے خلاف آوازیں مزید توانا ہوتی ہے۔

نوآباد کار کے لیے تعلیم یافتہ افراد مجرم ہی ہوتے ہیں جب کہ اس کے برعکس چور، ڈاکو، بھتہ خور مافیا، منشیات فروشوں کو وہ سماج میں مسیحا کے روپ میں پیش کرتی ہے جس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔یہ رویہ صرف بلوچ نوجوانوں کے ساتھ کیوں روا رکھا جارہاہے اس سوال کا جواب ہمیں مل ہی گیا۔ ویسے عمومی طور پر مجرموں کو عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے تاکہ وہ خود پہ لگنے والے الزامات کو رد ثابت کرنے کے لئے لڑ سکے لیکن پاکستان جیسے غیر فطری ریاست میں عدالتوں میں پیش کرنا از خود ایک خواب ہی ہے، بلکہ یہاں تو پورے خاندان کو اجتماعی اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس کی دنیا کی کوئی آئین اجازت نہیں دیتی۔

ریاست، ریاست ِ مدینہ، مہذب ریاست جیسے بلند و بانگ دعویٰ کرنے والے ایک بار اپنے رویوں کو دیکھنے کی کوشش کریں تو انہیں اپنے ہر عمل میں چنگیزی فطرت نظرآئے گی۔البتہ ریاست اگر خطے میں بسنے والے دیگر اقوام بلوچ، پشتون اور سندھیوں کو اپنا شہری سمجھتا ہے تو انہیں پنجاب کے شہریوں کو دیے گئے حقوق دینے ہوں گے، لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ یہ ممکنات میں سے نہیں کیوں نوآبادیاتی نظام میں رشتہ فقط آقا اور غلا م کا ہوتا ہے اور کوئی آقا اپنے غلام کو مساوی حقوق نہیں دے سکتا۔ یہاں اگر بھوک ہڑتا ل پہ بیٹھے ڈاکٹرز، طالب علم دنیا سے رخصت بھی ہوجائیں تو ان کے لیے کوئی بڑی خبر نہیں کیوں آقا کی ذہنیت ہی یہی ہے کہ وہ غلام کی جان کو ایک شئے ہی تصور کرے۔

جب ہم پنجاب کے طالب علموں ان کے تعلیمی اداروں کو دیکھتے ہیں یا کسی عام شہری کو تو حیرانی ہوتی ہے کہ یہ کس خطے کے باسی ہیں۔ ایک وہ جن کی دنیا بہشت ہے اور ایک یہ محکوم جو روزمرہ کی ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔

ان محرومیوں اور ظلم و جبر کے خاتمے کے لیے بلوچستان کے نوجوان پْر امن احتجاج کرتے چلے آرہے ہیں بلکہ کوئٹہ میں یہی پْر امن احتجاج بھی ریاستی آلہ کاروں کو برداشت نہیں ہوا جس کی وجہ سے بلوچ بہنوں کو بھی سال قبل گرفتار کیا گیا۔حالانکہ ان کے چند ایک مطالبات تھے جو ان کا آئین حق بھی ہے جیسے ہاسٹلوں میں نصب خفیہ کیمروں کا خاتمہ، تعلیمی اداروں سے عسکری اداروں کے اہلکاروں کا خاتمہ وغیرہ، لیکن بدلے میں انہیں زندانوں کی نظر کیا گیا۔ قید و بند کی ان صعوبتوں، ظلم کے ان طوفانوں کے باوجود بھی بلوچ اداروں نے اپنے کارکنان کو انہی فیصلوں پر پابند کیا کہ پرامن احتجاج ہی کیا جائے لہذا ہم جمہوری اصولوں پہ کاربند رہ کر اپنے حقوق کے لیے لڑتے رہیں گے۔رواں ہفتے گلزار دوست کی سربرائی میں تربت سے کوئٹہ تک (پادشپاد) ننگے پاؤں پیدل مارچ ہو یا ماما قدیر بلوچ کا چودہ سالوں سے مسلسل احتجاج ان کی بڑی مثالیں ہیں۔اپنے بنیادی حقوق نہ ملنے اور پر امن احتجاج کے باوجودہمیں آئے روز زندانوں کی نظر کیا جاتا ہے، آئے روز کسی نہ کسی بلوچ فرزند کی لاش کسی ویرانے سے ملتی ہے، آئے روز گھروں پہ آتش برسایا جاتا ہے، آئے روز۔۔۔آئے روز ظلم کی کوئی نئی تاریخ رقم ہوتی ہے۔ قابض ریاست ایک اور چال بڑی کامیابی سے چل رہی ہے وہ ہے پورے خطے میں منشیات عام کرنا تاکہ نوجوان نسل اپنے بنیادی حقوق اور ان کے لیے جدوجہد کرنے سے بیگانہ رہیں۔لیکن بلوچ پھر بھی سراپا احتجاج ہیں اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب بلوچ کو اس کے فطری حقوق نہیں ملتے۔

یہ سب وہ احتجاج ہیں جو بلوچ نوجوان پرامن طریقے سے دنیا کے سامنے ریکارڈ کرتے چلے آرہے ہیں لیکن پنجاب میں جب بھی احتجاج کے نام سے لوگ اکھٹے ہوتے ہیں تو توڑ پھوڑ جیسے واقع ریکارڈ ہوتے رہے جلاو گیراو جیسے واقعات رونما ہوتے رہے، تشدد کے ذریعے اپنی بات منواتے ہیں جس کی تازہ مثال فیض میں مذہبی انتہاپسندوں کی کارستانی جس میں انہیں پاکستان انعام و اکرام سے نوازتی ہے۔یہ رویے ظاہر کرتے ہیں وہی پاکستانی شہری ہیں، انہیں اپنے حقوق لینے کی خاطرہر قسم کے احتجاج کا حق حاصل ہے۔ لیکن بلوچ کو قطعاً اجازت نہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ریاست بلوچ کا نہیں بلکہ بلوچوں کو جبر کے ذریعے اس کا حصہ بنایا گیا اور جبر کی تاریخ کو مزید دوام بخشنے کے لیے ظلم و بربریت کا یہ سلسلہ آئے روز شدت اختیار کررہی ہے۔ لیکن بلوچ طلبا تنظیموں کے کارکنان ذہنی اور جسمانی تشدد سہنے کے باوجود پرامن احتجاج کو بہتر ین ذریعہ سمجھ کر اپنے بنیادی حقوق حاصل کرنے کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں، پھر بھی ریاستی اہلکار تشدد کو حق بجانب سمجھ کر جبری طور پر لاپتہ کرنے جیسے عمل کو معمول کے ساتھ بے خوف انجام دے رہے ہیں اور آئے روز کوئی حفیظ اور کوئی دلیپ اس ظلم کا شکار ہورہا ہے۔

آج ریاست بلوچ نوجوانوں کو کس بے دردی سے ماوارئے عدالت لاپتہ کر رہا ہے یا تشدد زدہ لاشیں پھینک رہا ہے یہ ریاستی عمل کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، لہذا ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے اولذکر بلوچ طلبا کو متحد ہونے کی ضرورت ہے اور دوم بیرونی دنیا تک ظلم کی یہ آواز پہنچانے کے لیے مزیدتگ و دو کرنی چاہیے تاکہ دنیا ”قلم کے قتل“ کی روک تھام کے لیے کردار ادا کرسکے۔

٭٭٭

Share This Article
Leave a Comment