ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن پنجاب نے اپنے ایک جاری کردہ پریس ریلیز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں زیرِ تعلیم ہونہار طالبعلم دلیپ بلوچ کی جبری گمشدگی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں اور نامعلوم لاشوں کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔محرومیوں میں جکڑے بلوچستان کے بچے جب اپنی بنیادی حقوق کی بات کرتے ہیں، خود پر مسلط کردہ محرومیوں کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں تو ان کی زبانوں پر ریاستی اداروں کی طرف سے قفل لگا دئیے جاتے ہیں۔حال ہی میں کئی بلوچ طلباء کو جبراً غائب کر دیا گیا اور یہ طلباء نہتے عام شہری ہیں جو پنجاب اور ملک کے کئی دیگر علاقوں میں تعلیم کی غرض سے قیام پذیر ہیں۔کیونکہ ان کو اپنے صوبے میں معیاری تعلیم کی فراہمی آج دن تک یقینی نہیں بنائی گئی۔بجائے اس کے کہ ان طلباء کے تعلیم حصولی میں آسانی پیدا کی جائے، ان پر آئے دن نئے مصائب ڈھائے جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں طلباء آئے روز احتجاجی کیمپ لگا کر اپنے بنیادی تعلیمی حقوق کی مانگ کر رہے ہوتے ہیں بلکہ کئی جگہوں پر طلباء نے بھوک ہڑتال کر رکھی ہے تو وہیں دوسری طرف بلوچ طلبہ کو مسلسل غائب کیا جا رہا ہے۔اسی سلسلے میں کچھ دن پہلے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے طالبعلم حفیظ بلوچ کو اٹھایا گیا اور کل پنجاب کے شہر بہاولپور سے چھٹیاں گزارنے کے غرض سے گھر جانے والے طالبعلم دلیپ بلوچ کو راستے سے ہی جبری لاپتہ کر دیا گیا۔
ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن پنجاب حکومت پنجاب اور حکومتی اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ دلیپ بلوچ کی بازیابی کو یقینی بنائیں اور اگر کسی طالبعلم نے جرم کیا ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے ناکہ ماورائے عدالت کوئی عمل کیا جائے۔حکومت طلباء کے ساتھ زیادتیوں کا سلسلہ فی الفور بند کرے۔