پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری بیان میں بلوچستان اورشمالی وزیرستان میں کیپٹن سمیت 2اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے 20 فروری 2022 کو بلوچستان کے ضلع کوہلو کے قریب ٹھکانوں میں مسلح افراد کی موجودگی کی خفیہ اطلاع کی بنیاد پر علاقے میں کارروائی کی’۔
بیان میں کہا گیا کہ‘جیسے سپاہیوں نے علاقے میں کارروائی شروع کی،مسلح افراد ٹھکانے سے فرار ہوئے اور اس دوران بلاتفریق فائرنگ کی’۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ‘شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران کیپٹن حیدر عباس گولی لگنیسے ہلاک ہوگئے’۔
مزید دعویٰ کیا گیا کہ‘مجرمان سے علاقہ خالی کرانے کے لیے کارروائی جاری رہی جو زخمی تھے لیکن قریبی پہاڑوں کی طرف جا کر بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے’۔
بیان میں کہا گیا کہ‘امن و امان خراب کرنے والوں کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کا کی کارروائیاں جاری رہیں گی اور انہیں بلوچستان میں سخت محنت کے بعد حاصل کیا گیا امن سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی’۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ‘کیپٹن حیدر عباس کی نماز جنازہ کراچی میں ادا کی گئی جہاں کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید نے شرکت کی’۔
ایک دوسرے بیان میں آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن سیکورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے جوان سال لانس نائک ہلاک ہوگئے جن کو سرکاری و عسکری اعزاز کے ساتھ کوئٹہ کے ہزاراہ قبرستان میں نمازجنازہ کی ادائیگی کے بعد ہزارہ قبرستان سپرد خاک کردیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں گزشتہ روز سیکورٹی فورسز کا مسلح افراد کے خلاف آپریشن کے دوران کوئٹہ کا نوجوان شبیر احمدہلاک ہو گئے۔