بلوچ لاپتہ افراد و شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ 4584 دنوں سے جاری

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ جبری لاپتہ افراد اور بلوچ شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو آج 4584 دن ہوگئے۔

آج اظہار یکجہتی کرنے والوں میں ایچ ار سی پی کے صوبائی چیئرپرسن خضر قاضی، کونسل ممبر سعید بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کے ڈپٹی آرگنائزر عبدلواہاب بلوچ شامل تھیں۔

وی بی ایم پی کے رہنما ماما قدیر بلوچ نے وفود سے مخاطب ہو کر کہا کے جب تک بلوچ قوم کے پیاروں کی بازیابی کا حق حاصل نہیں ہو جاتا تو اس حق کا تقاضا کرنا مروجہ بین الاقومی اخلاقیات اعلیٰ انسانی و جمہوری افراد کے منافی نہیں ہے اگر کوئی غیر قانونی غیر انسانی و غیر جمہوری عمل ہے تو اس بنیادی حق کو سلب اور اس کی بحالی کی جدوجہد کرنے والوں کو بروز ریاستی طاقت کچلنے کا رویہ ہے لیکن یہاں سب کچھ اسکے بر عکس ہے کیوں کہ حقائق تسلیم کرنے کی صورت میں بلوچ قوم کو خون میں نہلانے اور اس کی سر زمین اور وسائل پر تسلط جمانے والوں کو کٹہروں میں کھڑا اور اپنی جارحیت مسلط سے دستبر دار ہونا پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا کے گزشتہ دنوں بولان کے مختلف علاقوں میں فورسزکے آپریشن میں تیزی آئی ہے۔ دوران گن شب ہیلی کاپٹروں نے اس پاس کے علاقوں کو نشانہ بنایا جس میں مقامی آبادی کو شدید جانی و مالی نقصان پہنچا ہے۔دد عام بلوچ شہید و زخمی اور گرفتار کیے جانے والے بلوچ تھے۔ فورسز آپریشن میں عام بلوچوں کو زیر عتاب لایا گیا ہے۔حسب روایت اس بہیمانہ کارروائی پر پاکستانی سیاسی و سماجی حلقوں مذہبی جماعتوں لبرل حلقوں حقوق کے دعویداروں اور میڈیا نے بے حسی و بیگانگی کا رویہ بر قرار رکھا اور حکومتی دعوؤں کو درست مناتے ہوئے اطمینان کا سانس لیا۔ اس موقف دلیل میں نمایا نظر انے والی منافقت مبالغہ آمیزی اور تاریخی،زمینی حقائق سے عدم واکفیت ظاہر کرتی ہے۔ ان حلقوں نے کھبی بھی بلوچستان اور بلوچ قوم کے دکھوں، مصائب کو توجہ کے قابل نہیں سمجھا جبکہ دنیا جانتی ہے کہ بلوچ قوم سلط کی گئی جنگ میں پہلا حملہ بلوچ نے نہیں کیا تھا صرف بلوچ ہی کیا نو ابادیاتی جبر واستبداد اور اس کے خلاف محکوم اقوام کی تاریخ ان شواید سے بھری پڑی ہے کہ پہلا حملہ ہمیشہ طاقتور قابض قوموں نے کمزور اور پسماندہ اقوام کو اپنا مطیح بنانے کے لئے کیا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment