کراچی: خاندان کو مسلسل ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، لاپتہ حفیظ زہری کے اہلخانہ کی پریس کانفرنس

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

گذشتہ روز27 جنوری کی رات دبئی انٹرنیشنل سٹی سے متحدہ عرب امارات کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے ہاتھوں جبری لاپتہ عبدالحفیظ زہری کی ہمشیرہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اس کے خاندان کو مسلسل ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، دس ماہ سے اسکے شوہر عبدالحمید زہری لاپتہ ہیں جو شوگر کے مریض ہیں ابھی اسکے بھائی کو دبی سے اٹھا کر جبری لاپتہ کیا گیا ہے، ہمیں بتایا جائے کہ ہمیں کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے؟

اس موقع پر وائس فار بلوچ مسسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ، وی بی ایم پی کے جوائنٹ سیکرٹری سمی دین بلوچ، لاپتہ راشد حسین کی والدہ، لاپتہ عبدالحید زہری کی بیٹی سعیدہ بلوچ اور فیملی کے دوسرے ممبران کے علاوہ انسانی حقوق کے کارکنان بھی موجود تھے۔

عبدالحفیظ زہری کے ہمشیرہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے سامنے اس سے پہلے بھی کئی بار آچکے ہیں اور اپنے پیاروں سے متعلق پریس کانفرنس اور احتجاج کے ذریعے اپنے خدشات کا اظہار کرچکے ہیں لیکن بجائے ہماری آواز سننے اور انصاف فراہم کرنے کے ناانصافیوں کا لامتنائی سلسلہ جاری ہے۔

اس پریس کانفرنس کے توسط سے ہم آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ گذشتہ رات متحدہ عرب امارات کے شہر انٹرنیشنل سٹی دبئی سے امارات کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے عبدالحفیظ زہری کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا جس کے حوالے سے تاحال ہمیں کسی قسم کی معلومات نہیں مل سکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ضلع خضدار سے تعلق رکھنے والے عبدالحفیظ زہری گذشتہ کئی سالوں سے متحدہ عرب امارات میں اپنا کاروبار چلاکر گزر بسر کررہا ہے۔ بلوچستان میں حالات کی خرابی کے باعث اس نے متحدہ عرب امارات منتقل ہونے کا فیصلہ کیا لیکن وہاں بھی ہمارے پیاروں کی زندگیاں محفوظ نہیں ہے جو باعث تشوش ہے۔

گذشتہ رات تین گھنٹے سے زائد پارکنگ میں انتظار کرنے والے اہلکار عبدالحفیظ کو دو بجے کے قریب گرفتار کرکے اپنے ہمراہ لے گئے جس کے بعد اس کے حوالے سے ہمیں کسی قسم کی معلومات نہیں مل سکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے کارکن راشد حسین بلوچ تین سال قبل 26 دسمبر 2018 کو متحدہ عرب امارات سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا جس کی چشم دید گواہ عبدالحفیظ زہری تھے جبکہ بعدازاں وہاں کے خفیہ اداروں اور فورسز اہلکاروں نے حفیظ زہری کے گھر پر چھاپہ مارا تاکہ راشد حسین کا پاسپورٹ حاصل کیا جاسکے لیکن انہیں کچھ نہیں ہاتھ لگا جبکہ اسی وقت عبدالحفیظ زہری کو بھی جبری طور پر لاپتہ کرنے کی دھمکی دی گئی۔

راشد حسین بلوچ کو چھ مہینے تک لاپتہ رکھنے کے بعد غیر قانونی طور پر پاکستان کے حوالے کیا گیا جہاں وہ تاحال لاپتہ ہیں۔ اس حوالے سے آپ کے علم میں ہوگا کہ ہم مسلسل احتجاج کرتے رہے ہیں کہ راشد حسین کو منظر عام پر لاکر قانونی حقوق دیئے جائے لیکن اب عبدالحفیظ کی جبری گمشدگی ہمارے خدشات میں مزید اضافے کا باعث بن رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں اس بات کا ذکر کرنا ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ عبدالحفیظ زہری کے گھر کے افراد کو جبری گمشدگیوں اور ٹارگٹ کلنگ جیسے واقعات کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے باعث عبدالحفیظ زہری متحدہ عرب امارات منتقل ہوئے۔ عبدالحفیظ زہری کے بھائی کمسن مجید زہری کو جبری طور پر لاپتہ کیا جن کی تشدد زدہ لاش 24 اکتوبر 2010 کو ملی جبکہ عبدالحفیظ کے والد حاجی رمضان زہری جو ایک کاروباری شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے، کو 2 فروری 2012 کو بھرے بازار میں مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔

ان حالات سے مذکورہ خاندان کے افراد پہلے بلوچستان میں آئی ڈی پیز کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے جبکہ بعدازاں وہ متحدہ عرب امارات منتقل ہوئے۔ عبدالحفیظ زہری اپنے بچوں کا واحد سہارا ہے جو اپنی بساط کے مطابق کاروبار کرکے اپنا گزر بسر کررہا تھا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عبدالحفیظ زہری کے ہمشیرہ نے کہا کہ آپ کے توسط سے ہم اپنی آواز متحدہ عرب امارات کے حکام تک پہنچانا چاہتے ہیں کہ وہ مہذب ملک کے طور پر انسانی حقوق کا لحاظ کرتے ہوئے حفیظ زہری کو فوری پر منظر عام پر لائے اگر ان پر کسی قسم کا الزام ہے تو وہاں کی عدالتوں میں پیش کیا جائے جبکہ محتدہ عرب امارات راشد حسین کے جبری گمشدگی اور پاکستان حوالگی کے حوالے سے بھی عالمی اداروں اور لواحقین کو جواب دے۔

راشد حسین کی طرح عبدالحفیظ کے زندگی سے متعلق ہمیں خدشات لاحق ہیں، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سیاسی جماعتوں سے گزارش کرتے ہیں کہ اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں اور ہمارے پیاروں کی بحفاظت بازیابی کیلئے آواز اٹھائیں۔

دوسری طرف کراچی میں بلوچ جبری لاپتہ افراد کے بھوک ہڑتالی کیمپ جار ی ہے، آج کیمپ کو4573 دن مکمل ہو گئے۔

بلوچ جبری لاپتہ افراد کے لواحقین جن میں گزشتہ روز متحدہ عرب امارات سے جبری لاپتہ عبدالحفیظ زہری، لاپتہ راشد حسین اور عبدالحمید زہری کی فیملی آج مسلسل کیمپ میں بیٹھے رہے، جبکہ مختلف طبقہ فکر کے لوگوں نے کیمپ میں آکر ماما قدیر بلوچ اور ان سے اظہارِ یکجہتی کی۔

جن سے مخاطب ہو کر وائس فار بلوچ مسسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ آج بلوچ دنیا کے کسی کونے میں بھی اس ریاست کے جبر سے محفوظ نہیں ہیں، جسکی تازہ ترین مثال گزشتہ دنوں متحدہ عرب امارات سے عبدالحفیظ زہری کی جبری گمشدگی ہے، جس کے کزن راشد حسین کو پہلے ہی امارات نے غیر قانونی حراست میں لے کت پاکستان کے حوالے کیا۔

Share This Article
Leave a Comment