کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی کے دولاپتہ طلبا سہیل بلوچ اور فصیح بلوچ کی عدم بازیابی کے خلاف طلبا تنظیموں کی جانب سے بلوچستان یونیورسٹی کے مین گیٹ کے سامنے مشترکہ احتجاجی دھرنادیا گیا۔
دھرنے میں پی ایس ایف بلوچستان کے صدر جہانگیر بلوچ اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ شریک تھے۔
طلبانمائندوں کا کہنا تھا کہ جامعہ بلوچستان سے سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ ہونے والے سہیل بلوچ اور فصیح بلوچ کو جامعہ سے لاپتہ کرنا بلوچستان میں طلباء کے خلاف جاری ریاستی کریک ڈاؤن کا تسلسل ہے دو ماہ سے زائد عرصہ ہوچکا ہے کہ جامعہ سے لاپتہ کئے گئے طلباء منظر عام پر نہیں لائے جاسکے ہیں۔
دھرنامظاہرین کا کہنا تھا کہ جامعہ سے لاپتہ ساتھیوں کی جبری گمشدگی کے خلاف طلباء الائنس کی جانب سے مظاہروں کو حکومتی وزراء نے جھوٹ بول کر ختم کرنے کی کوشش کی جبکہ حکومت کی جانب سے طلباء کو بازیاب کرانے کی ڈیڈلائن بھی ختم ہوچکی ہے لیکن ہمارے لاپتہ ساتھی بازیاب نہیں ہوئے۔
دھرنا مظاہرین نے کہا کہ صوبائی وزیر عبدالرحمان کھیتران احتجاج پر بیٹھے طلباء سے کئی بار مزاکرات کرنے اور حکومت کی جانب سے یقین دہانی کرانے کے بعد جب مظاہرے ختم ہوئے تو صوبائی وزیر کی جانب سے مسئلہ پر خاموشی اختیار کی گئی۔
طلباء نے کہا ہے کہ لاپتہ ساتھی جب تک منظر عام پر نہیں لائے جاتے احتجاجوں کا سلسلہ جاری رہیگا۔
واضع رہے کہ سہیل بلوچ اور فصیح بلوچ کو گذشتہ سال یکم نومبر کو جامعہ بلوچستان کے ہاسٹل سے سیکورٹی فورسز نے حراست میں لیکر جبری طورپرلاپتہ کردیا تھا۔