جبری گمشدگی کے شکار نوجوان کاشف بلوچ کی بازیابی کے لیے پیرکے روزکراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔
احتجاجی مظاہرے میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعدادشریک تھی۔
اس موقع پر کاشف بلوچ کی اہلیہ نے بتایا کہ پانچ ماہ قبل کاشف بلوچ کو ملیر میں واقع ان کے گھر سے اٹھایا گیا تھا۔رینجرز اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکار کاشف بلوچ کو اپنے ساتھ لے کر گئے تھے۔
انہوں نے کہاکہ کاشف بلوچ کی چار چھوٹی بیٹیاں ہیں جو ہر وقت اپنے والد سے متعلق پوچھتی ہیں۔رینجرز اور حکومت وقت سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ کاشف کو بازیاب کرائیں۔
کاشف بلوچ کی اہلیہ نے کہاکہ اگر کاشف نے کوئی جرم کیا ہے تو اسے عدالتوں میں پیش کیا جائے۔
سنگر نیوز واٹس ایپ چینل
بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔