بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں مرد پولیس اہلکاروں کی جانب سے خواتین کو گرفتار کرنے اور پولیس وین میں بٹھاتے وقت تشدد کرنے کے واقعے پر کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا ہے۔
عبدالقدوس بزنجو نے آئی جی پولیس کو ہدایت کی ہے کہ ملوث پولیس اہلکاروں کو معطل کر کے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور رپورٹ پیش کی جائے۔
ہدایت کے بعد کوئٹہ پولیس کے ایس ایس پی نے خواتین کی گرفتاری کے معاملے میں ’غیر ذمہ دارانہ رویے‘ پر ایڈیشنل ایس ایچ او نوید مختار اور مذکورہ اہلکاروں کو معطل کرنے کے بعد انکوائری حکم دے دیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر خواتین کی گرفتاری ضروری تھی تو لیڈی پولیس اہلکار کے ذریعہ کارروائی عمل میں لائی جاتی۔ پولیس کا یہ رویہ قطعی طور پر قابل قبول نہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کوئٹہ کی ایک مصروف شاہراہ پر پولیس اہلکار تین خواتین کو حراست میں لے رہے ہیں۔
یہ ویڈیو کوئٹہ شہر میں قائد آباد پولیس سٹیشن کے اہلکاروں کی جس میں یہ نظر آرہا ہے کہ وہ تین نوجوان خواتین کو پکڑ کر پولیس موبائل میں دھکیل رہے ہیں۔ اس دوران سڑک پر لوگوں کا مجمع ہے اور پولیس اہلکار تین خواتین کو بنا کسی لیڈی کانسٹیبل کے گھسیٹتے ہوئے پولیس موبائل کی جانب لے جا رہے ہیں۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مرد پولیس اہلکار ایک خاتون کو پکڑ کر پولیس موبائل میں پھیکتے ہیں، اس کے بعد دوسری خاتون کو لایا جاتا ہے اور ان کی جانب سے مزاحمت کرنے پر انھیں مرد اہلکار کی جانب سے اٹھا کر زیادہ شدت کے ساتھ پولیس موبائل میں دھکیلا جاتا ہے۔
اگرچہ تیسری خاتون بہت زیادہ مزاحمت تو نہیں کرتی ہے لیکن ان کو بھی پولیس موبائل کے قریب لاکر زور سے اندر کی جانب دھکا دیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے قوانین کے تحت کسی بھی خاتون کو لیڈی پولیس کانسٹیبل کی موجودگی کے بنا نہ صرف گرفتار نہیں کیا جا سکتا بلکہ ان کی جامعہ تلاشی بھی مرد پولیس اہلکار نہیں لے سکتے۔
کوئٹہ پولیس کے ایس ایس پی عبدالحق عمرانی کے مطابق 20 روز قبل زینب نامی لڑکی کے والد نے ان کے اغوا کی ایف آئی آر قائدآباد پولیس میں درج کرائی تھی۔
میڈیا کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ والدین کی نشاندہی پر ہی پولیس نے لڑکیوں کو پولیس وین میں بٹھایا جن میں زینب اور ان کی دو سہیلیاں شامل تھیں۔ ایس ایس پی پولیس کے مطابق زنیب نامی لڑکی اپنی رضامندی سے سہیلیوں کے ساتھ رہ رہی تھی۔
پولیس نے اس معاملے میں اہلکاروں کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایڈیشنل ایس ایچ او کو لیڈی پولیس کے ہمراہ لڑکیوں کی حراست میں لینا چاہیے تھا۔