گوادر: علمی مرکز جیوز لائبریری میں بھی سیلابی پانی کی تباہ کاریاں، لاکھوں کا نقصان، متعدد کتابیں ضائع

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں حالیہ بارشوں سے پیداہونے والی سیلابی صورتحال سے جہاں پورا شہر پانی میں ڈوب گیا وہاں گوادر ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام چلنے والی بلوچستان کی فعال علمی و ادبی اور اکیڈمک مرکز ”جیوز یوزلائبریری“کو بھی لاکھوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔

لائبریری میں پانی بھرنے سے کئی کتابیں ضائع ہوگئی ہیں اور دفتر کو بڑے پیمانے پرنقصان پہنچا ہے۔

جیوز لائبریری بلوچستان کی سطح پر ایک فعال لائبریری ہے جس نے نہ صرف گوادر شہر میں بلکہ بلوچستان سطح پرکتب بینی،ادبی، فنون لطیفہ، اسکلزاور تعلیمی سرگرمیوں کو رواج اور ترقی دینے میں کلیدی کردار ادا کیاہے۔

بلوچ دانشور،لکھاری اور جیوز کے جنرل سیکریٹری کے بی فراق نے سوشل میڈیا میں اپنے ایک پوسٹ میں جیوز لائبریری کو حالیہ بارش سے پہنچنے والے نقصان کے بارے میں بتایا ہے۔

انہوں نے کہا اس کتب خانے اور آفس کو بنانے میں ایک دہائی کا عرصہ لگا ہے جسے طوفانی بارشوں نے نقصان پہنچایا ہے۔اس کو دوبارہ بنانے اور سنوارنے میں اب پھر وہی جذبہ درکار ہوگا اور نادر کتب کی دستیابی ممکن بنانی ہوگی۔

انہوں نے کہا جیوز کی شائع کردہ کتابوں سمیت کئی منتخب کتابیں بھی بارش کی وجہ سے ضائع ہوگئی ہیں۔کیونکہ جیوز مکمل طور پر بارش کی پانی سے بھر گیا تھا۔بارش کے پانی کی وجہ سے جیوز کا کمپیوٹر،منی ٹرانسفارمر،ساؤنڈ سسٹم،سولربیٹری، کنٹرولر، آفس ٹیبلز، یو پی ایس سسٹم، لائبریری کے ساتھ ہی بڑی تعداد میں کتابیں ضائع ہوئیں اور اس کے ساتھ دیگر چیزوں کا بھی نقصان ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچی، انگریزی اور اردو کی بے شمار کتابیں بارش کی وجہ سے ضائع ہوئیں جس میں میری من پسند اردو کی کہانی کار نیرمسعود کی کہانیوں کی کتاب ’عطرکافور‘ کا بارش سے خستہ ہونے کا رنج بھی تا دیر رہے گا۔

انہوں نے حکومتی دعوؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہم سنگار پور، دبی،پورٹ سٹی اور چین کے شہر زوائی کی سسٹر سٹی کی نسبت سے کہہ رہے ہیں کہ جانے ان پر کیا گزر رہی ہوگی۔اس شہر ناپرساں اور خرابہ اساس، سی پیک کے جھومر اور گیم چینجر شہر کو ان سے نسبت دیا جا رہا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment