پاکستانی فورسز نے سیکورٹی کے نام پر تربت شہرکے گلی محلوں میں باڑ لگانے اور موٹر سائیکل و گاڑیوں کی آمد ورفت روکنے کیلئے رکاوٹیں کھڑی کرنے کا عمل شروع کردیا ہے ۔
مقامی میڈیا”دی بلوچستان پوسٹ“ نے اپنے نیوز ڈیسک کے حوالے سے خبر دی ہے کہ بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں سیکورٹی فورسز کے جانب سے گلیوں اور محلوں میں باڑ لگا کر رکاوٹیں کھڑی کرنے کا عمل شروع کردیا ہے جس کی وجہ سے شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ گذشتہ کچھ دنوں سے تربت کے مختلف علاقوں میں ایف سی کی جانب سے گلیوں اور محلوں میں رکاوٹیں کھڑی کرکے راستوں کو ٹریفک کے لئے بند کردیا گیا ہے۔
شہریوں نے شکایت کی ہے کہ باڑلگانے کا عمل سرحدوں سے شروع ہوکر اب شہری علاقوں میں گلیوں اور بازاروں تک پہنچ گیاہے۔
تربت شہر کے مختلف علاقوں سمیت فنصاری گلی نزد گوادر اسٹاپ اور تمپ اسٹاپ کو کل رات سیکورٹی اداروں کی طرف سے بند کیا گیاہے۔
شہریوں نے شکایت کی ہے کہ اس سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔راستوں کی بندش کے باعث ایمرجنسی کے صورت میں شہریوں کو مشکلات درپیش آرہے ہیں۔
انجمن تاجران کیچ کے سربراہ حاجی کریم بخش بلوچ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ تربت شہر کے اندر انتظامیہ و سرکاری اداروں نے 6 مختلف مقامات پر تیس تیس فٹ کے سڑک جو عوامی گزرگارہ ہیں کو باڑ لگا کر تقسیم کیا ہے گویا گلی کے ایک طرف پاکستان اور ایک پار انڈیاہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہر کے اندر باڑلگانے کا عمل ہرگز قبول نہیں اگر کل تک انتظامیہ نے نہیں ہٹائے تو وہ اپنی ہاتھوں سے ان کو اکھاڑ پھینک دیں گے۔
واضع رہے کہ اس قبل بھی آل پارٹیز کیچ کی جانب سے شہر کی گلیوں اور سڑکوں کی بندش پرتشویش کا اظہار کیا تھا اور ایک اجلاس میں فیصلہ کیا تھاکہ اگر ایف سی گلی محلوں میں لگائی گئی باڑ اور بندش سمیت شہر کی سڑکوں کو نہیں کھولے گا تواحتجاج کا راستہ اپنا یا جائے گا۔
گوادر شہر میں بھی سیکورٹی کے نام اسی طرح جگہ جگہ چیک پوسٹیں بنائی گئیں جہاں مقامی لوگوں کوتنگ کیا گیا جس کے ردعمل پر گوادر حق دو تحریک وجود میں آگئی جس نے چیک پوسٹیں سمیت سیکورٹی کے نام پر کئی قوانین و رکاوٹوں کا خاتمہ کیا۔