مولانا ہدایت الرحمان کا کراچی میں بلوچ لاپتہ افراد وشہداکے کیمپ کا دورہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

سندھ کے دارالحکومت کراچی میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاج کو 4548 دن مکمل ہوگئے۔ جماعت اسلامی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور بلوچستان کو حق دو تحریک کے رہنماء مولانا ہدایت الرحمان نے کیمپ کا دورہ کرکے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

اس موقع پر مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ تعامل اور تڑپ کی شدت کیساتھ نظر کے سامنے کوئی رہتا ہے، اس کا پتہ نہیں جبکہ اس کے واپسی کی منتظر نگاہیں دروازے پر لگی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی شکوک کا پودا اپنے بھیج کے سخت خول میں محوئے خواب تھا کہ وفاداری کے پاک دامنی پر بے وفائی کے تہمت لگاکر اس کو داغ دار کرنا شروع کیا گیا۔

مولانا یدایت الرحمان نے مزید کہا کہ پر امن و جمہوری عوامی مزاحمت کو جاری رہنا چائیے۔

وی بی ایم پی کے رہنماء ماما قدیر بلوچ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سب کو بغیر کسی وارنٹ و قانون کے گرفتار کرکے اٹھایا جاتا ہے، کئی مہینے اذیت گاہوں میں بدترین تشدد کا نشانہ بناکر لوگوں کو غدار قرار دیا جاتا ہے اور پھر ان کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں اور جنگلات میں جانوروں کے خوراک کے طور پر پھینک دیئے جاتے ہیں۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ آج مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کراچی میں ہماری کیمپ کا دورہ کیا۔باوجود اسکے کہ گوادر مظاہرہ پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کی ایک اندرونی جنگ تھی۔ مگر ہدایت الرحمن بلوچ کے تمام مطالبات عوام کی نبض و آواز تھے۔ اور میں بذات خود ہدایت بلوچ کو، ISI, MI اور FC کی اس جنگ کا حصہ یا فریق نہیں سمجھتا۔کیونکہ فوج نے آپریشن، فرزندوں کی قتل و اغوا کے ساتھ ساتھ بلوچ قوم سے اس کا کاروبار، جینے کا حق چھین لیا ہے اور اسکے عزت نفس کو روزانہ کی بنیاد پر مجروح کررہا ہے۔اورتمام صورتحال کے باوجود ہماری مکمل حمایت ہدایت الرحمن بلوچ اور بلوچستان کو حق دو تحریک کے ساتھ ہیں۔ تنظیم کے سربراہ اس حوالے سے پہلے ہی بیان دے چکے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment