بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تجابان سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ ہونے والے کلاس ششم اور ہفتم کے طالب علم دوستا اور اقبال کے اہلخانہ نے ڈپٹی کمشنر کیچ کے آفس کے سامنے احتجاج کیااوران کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔
جبکہ ڈی سی کیچ اور اے ڈی سی کی یقین دہانی پر انہوں نے اپنا احتجاج موخر کردیا۔
تجابان سے تعلق رکھنے والے خواتین اور بچوں نے جمعرات کو ڈپٹی کمشنر کیچ کی آفس کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ شب چار بجے سیکیورٹی فورسز نے مرحوم بدل اور میران نامی افراد کے گھروں میں داخل ہوکر ان کے بیٹے دوستا ولد مرحوم بدل اور اقبال ولد میران کو گرفتار کرکے لاپتہ کردیا جن کے متعلق ہمیں کوئی اطلاع اور معلومات نہیں دی جارہی۔
انہوں نے کہاکہ ہمارے بچے چھوٹے ہیں جو صرف جماعت ششم اور ہفتم میں زیر تعلیم ہیں ان سے کیا قصور یا جرم سرزد ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اگر ہمارے بچے کسی جرم میں ملوث ہیں تو انہیں عدالتوں میں پیش کرکے ان کا جرم ثابت کیا جائے اور یہ اختیار عدالتوں کو دیا جائے کہ ان کے بارے میں سزا و جزا کا فیصلہ کریں، کسی کو خلاف قانون رات کی تاریکی میں گھروں میں گھس کر لاپتہ کرنا کہاں کا انصاف ہے؟یہ ملک کی آئین اور قانون کی خلاف ورزی کے ساتھ انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔
ڈپٹی کمشنر کیچ نے لاپتہ نوجوانوں کی فیملی سے ملاقات کرکے تین دنوں کے اندر ان کو بازیاب کرانے کی یقین دہانی کرائی جس پر احتجاج موخر کردیا گیا۔