ایران میں گزشتہ روزجمعرات 16 دسمبر کو فورسز نے سیستان بلوچستان کے شیر مہگس میں ایک پیگوٹ گاڑی پر فائرنگ کرکے 4 بلوچ شہریوں کو قتل کردیا۔
قتل ہونے والوں میں سے دو بھائی“علی حملی”اور“مسلم حملی”ولد لال محمد کی شناخت ہو گئی ہے جو کہ سرباز سے تعلق رکھتے تھے، اور دو دیگر افراد کی شناخت ہو گئی ہے جو کہ پہرہ(ایرانشہر) کے رہنے والے تھے اور جو کہ دونوں کاظم اور اعظم علی اور مسلم کے دوست تھے۔
کہا جاتا ہے کہ یہ بلوچ شہری مہگس شہر کے گاؤں“کاشکائی”کی سمت جار رہے تھے، جسے ایرانی فورسز نے بغیر کسی وارننگ کے اور رکے بغیر نشانہ بنایا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایرانی فورسز نے اسی دن اعلان کیا تھا کہ ایک دہشت گرد گروہ اور“عادل آسکانی”کے قاتلوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
کہا جارہا ہے کہ راسک کاؤنٹی کے گاؤں پشامگ کے رہائشی عادل آسکانی کو ایک دن پہلے مسلح ڈاکوؤں نے پہرہ کاؤنٹی کی لائسنس پلیٹ تبدیل کرنے کے بدلے میں قتل کر دیا تھا، جس سے لوگوں کی جانب سے سیکورٹی کے فقدان کی وجہ سے بہت سے ردعمل سامنے آئے۔
واضح رہے کہ ان بلوچ شہریوں کے قتل کو ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود پاسداران انقلاب نے مقتولین کو لواحقین کے حوالے نہیں کیا ہے۔