بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں بولان میڈیکل کالج (BMC) کے باہر پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ نرسنگ کی طالبہ خدیجہ بلوچ کی بازیابی کے لیے جاری احتجاج آج تیرہویں روز میں داخل ہو گیا۔
بی وائی سی کے مطابق گزشتہ تیر ہ دنوں کے دوران خدیجہ بلوچ کے اہلِ خانہ کو مسلسل مشکلات اور دباؤ کا سامنا رہا ہے، جبکہ حکام کی جانب سے ان کی بازیابی کے لیے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
بیان کے مطابق احتجاج میں شریک افراد کی تصاویر لی جا رہی ہیں، اور جب وہ گھروں کو واپس جاتے ہیں تو ریاستی اہلکار ان کا پیچھا کرتے ہیں اور انہیں حراست میں لینے کی کوشش کی جاتی ہے۔
بی وائی سی کا کہنا ہے کہگذشتہ روز احتجاجی شرکا کو اسی نوعیت کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، جس میں ان کی نگرانی، فوٹوگرافی اور حراست کی کوششیں شامل تھیں۔
تنظیم نے کہا کہ ان اقدامات کے باوجود خدیجہ بلوچ کا خاندان اپنے مطالبے پر قائم ہے اور احتجاج جاری رکھے ہوئے ہے۔
بی وائی سی کے مطابق دباؤ اور ہراسانی کے یہ طریقے احتجاج کو ختم نہیں کر سکتے، بلکہ اس عزم کو مزید مضبوط کریں گے۔