امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے ملک کی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کے بحری محاصرے کے نفاذ کے لیے ’بحری قزاقوں کی طرح‘ عمل کر رہی ہے۔
انھوں نے یہ بیان گزشتہ چند روز کے دوران امریکی افواج کی جانب سے ایک جہاز کو تحویل میں لینے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے دیا۔
جمعہ کی شب ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم نے جہاز کو تحویل میں لیا، اس کا سامان حاصل کیا اور تیل پر بھی قبضہ کیا۔ یہ ایک نہایت منافع بخش کاروبار ہے۔ ہم قزاقوں کی طرح ہیں تقریباً انہی جیسے، لیکن ہم مذاق نہیں کر رہے۔‘
رپورٹ کے مطابق تہران سے منسلک بعض جہاز ایران کی بندرگاہوں سے نکلنے کے بعد ایشیائی پانیوں میں امریکی کارروائیوں کا نشانہ بنے، جہاں پابندیوں کا سامنا کرنے والے کنٹینر بردار جہازوں اور ایرانی آئل ٹینکروں کو بھی تحویل میں لیا گیا۔
جنگ کے آغاز سے ایران نے آبنائے ہرمز سے زیادہ تر جہازوں کی آمدورفت محدود کر دی ہے سوائے اپنے جہازوں کے۔ اس کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی اور محاصرہ کا اعلان کیا تھا۔
دوسری جانب امریکی وزارتِ خزانہ نے شپنگ کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کو کسی بھی قسم کی فیس یا معاوضہ ادا نہ کریں، چاہے یہ ادائیگیاں عطیات کی صورت میں ہی کیوں نہ ہوں۔ بصورتِ دیگر ایسی کمپنیاں امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتی ہیں۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں محفوظ گزرگاہ کی فراہمی کے بدلے ادائیگیاں طلب کیے جانے سے متعلق معلومات امریکہ کو حاصل ہوئی ہیں۔
اس ضمن میں جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی شکل میں بالواسطہ ہو یا خیراتی اداروں کے ذریعے ادائیگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سمندری نقل و حمل کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔
ادھر تہران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے خاتمے سے متعلق تجاویز کے تناظر میں اس آبنائے سے گزرنے والے جہازوں پر فیس یا ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔
امریکی وزارتِ خارجہ کے غیر مُلکی اثاثہ جات کو کنٹرول کرنے والے مخصوص دفتر کی جانب سے جاری بیان میں اس سے قبل بھی شپنگ کمپنیوں کو متنبہ کیا تھا کہ ایسی ادائیگیاں انھیں پابندیوں کے خطرے سے دوچار کر سکتی ہیں اور جمعہ کے روز اس تنبیہ کو دہراتے ہوئے واضح کیا گیا کہ عطیات یا بالواسطہ ادائیگیاں بھی قابلِ قبول نہیں ہوں گی۔