امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کا جلد جائزہ لیں گے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اسے قابلِ قبول نہیں سمجھتے۔
فلوریڈا کے علاقے ویسٹ پام بیچ میں میامی روانگی سے قبل ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’اس بات کا امکان موجود ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنے حملے دوبارہ شروع کر دے۔‘
اس سے قبل ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا تھا کہ ایران نے اپنی تجویز مستقل طور پر جنگ کے خاتمے کے مقصد کے تحت ثالث کے طور پر پاکستان کو پیش کی ہے اور اب ’معاملہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے کہ وہ سفارتکاری کا راستہ اختیار کرے یا محاذ آرائی پر مبنی پالیسی جاری رکھے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پیغام میں لکھا کہ ’ایران نے گزشتہ 47 برسوں کے دوران انسانیت اور دنیا کے خلاف اپنے اقدامات کی ابھی تک اتنی بڑی قیمت ادا نہیں کی۔‘
صحافیوں کے سوالات کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انھیں معاہدے کے مجموعی ڈھانچے سے آگاہ کر دیا گیا ہے تاہم ابھی تفصیلی متن انھیں فراہم کیا جانا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسترد کی گئی تجویز میں آبنائے ہرمز میں کشتیرانی کی بحالی اور ایران کے خلاف امریکی محاصرے کے خاتمے سے متعلق شرائط شامل ہیں جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بات چیت کو بعد کے مرحلے کے لیے مؤخر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔