چین کی وزارتِ تجارت نے سنیچر کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ ایرانی تیل خریدنے کے الزام میں نشانہ بنائی گئی پانچ کمپنیوں کے خلاف امریکی پابندیوں کی تعمیل نہیں کرے گی۔
چین ایرانی تیل کا ایک بڑا خریدار ہے، خاص طور پر چھوٹی اور آزاد ریفائنریوں کے ذریعے جنھیں ’ٹی پاٹس‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ریفائنریاں کم قیمت پر فروخت ہونے والے ایرانی خام تیل پر انحصار کرتی ہیں۔
امریکہ، جو ایران کی آمدنی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، نے ان قسم کی ریفائنریوں کے خلاف پابندیاں سخت کر دی ہیں۔
چین کی وزارتِ تجارت کا کہنا ہے کہ وہ امریکی پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتی اور چینی کمپنیوں اور اداروں کو بھی ان پر عمل درآمد یا ان کی تعمیل نہیں کرنی چاہیے۔
وزارت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندیاں ’چینی کمپنیوں کو دیگر ممالک کے ساتھ معمول کی اقتصادی، تجارتی اور متعلقہ سرگرمیاں انجام دینے سے غیر منصفانہ طور پر روکتی یا محدود کرتی ہیں، اور بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔‘
وزارت نے مزید کہا: ’چینی حکومت ہمیشہ ان یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتی آئی ہے جو اقوامِ متحدہ کی منظوری کے بغیر اور بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر نہیں لگائی جاتیں۔‘
اس فیصلے میں پانچ چینی کمپنیوں کا ذکر ہے: تین صوبہ شینڈونگ میں اور دو دیگر، جن میں ہینگلی پیٹروکیمیکل ریفائنری (ڈالیان) اور ہیبے ژنہائی کیمیکل گروپ شامل ہیں۔
گذشتہ روز واشنگٹن نے ایک اور چینی کمپنی پر یہ کہتے ہوئے پابندی عائد کی کہ اس نے ایرانی خام تیل کے ’کروڑوں بیرل‘ درآمد کیے اور ایران کے لیے اربوں ڈالر کی آمدنی پیدا کی۔
چین کی وزارتِ تجارت کے بیان میں اس کمپنی کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔
یہ نئی پابندیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعطل برقرار ہے، اور فروری کے آخر میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والے تنازع کا تاحال کوئی مستقل حل سامنے نہیں آیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مئی میں چینی رہنما شی جن پنگ سے مذاکرات کے لیے چین کا دورہ کرنے والے ہیں۔